تازہ ترین
اٹلی: ناپولی میں عیدالفطر         اٹلی: بولونیا میں عیدالفطر         عید کی نماز محمدیہ مسجد بریشا چوہدری سکندر گوندل چوہدری مدثر تھیلہ چوہدری رشید گجر مرزا شامیر مرزا محمد علی مرزا محمد خالد         سفیران پاکستان گروپ بلونیا کے دوستوں کا نماز عید الفطر کی ادائیگی کے بعد گروپ فوٹو         چوہدری اجمل فرزند گوٹریلہ کی طرف سے چوہدری صابر مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے 29 رمضان المبارک کو اسلامک سینٹر بریشیا میں قران خوانی اورافطار ڈنر         نینا خان کی جانب سے ا ہلِ ِ وطن کو عید مبارک         پیرس: عید الفطر پر منہاج ویلفئیر فرانس کی جانب سے فلاحی کیمپ کا انعقاد         ویانا میں عیدالفطر کا سب سے بڑا اجتماع         اللہ پاک اہلِ وطن اور اوورسیز پاکستانیوں کو عید الفطر کی ہزاروں خوشیا ں نصیب فرمائے، آمین: بلا ل حسین جنجوعہ         ا ٹلی: میری طرف سے تمام ہم وطنوں اور امتِ مسلمہ کو عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں، میاں خاں         امریکہ: نیو یار ک میں علی راشد کی طرف سے گرینڈ افطار ڈنر کا اہتمام، کمیونٹی و دوست احباب کی بھر پور شرکت         او پی سی پنجاب کے اعلی سطح کے وفد نے دورہ یورپ کے بعد دیار غیر میں مقیم ہموطنوں کے مسائل کے حل کی سنجیدہ کوششیں پر مبنی جامع رپورٹ وزیر اعلی کو پیش کر دی         اٹلی: جو گناہوں کی غلامی سے دیتی ہے نجات، رمضان ہم پہ وہ رحمت کی برسات ہے: سفارت خانہ روم میں سفیرِ پاکستان کی جانب سے افطار ڈنر دیا گیا، سفیرانِ وطن کی بھرپور شرکت         بولٹن: سب دوستوں، بھائیوں اورامتِ مسلمہ کو جمعتہ الوداع او ماہِ ر رمضان کی مبارک ساعتیں مبارک ہوں، اللہ پاکستان اور عالمِ اسلام کو ہر مصیبت سے محفوظ رکھے، آمین: عالمِ دین و روحانی پیشوا سید محمد         ادارالمصطفی سنٹر ویانا میں سید اظہر شاە کی جانب سے 28 ویں روزە افطاری کے موقع پر تصویری جھلکیاں (اکرم باجوە ویانا)        

آستین کا سانپ بننا

آستین کا سانپ بننا

بہت دن پہلے کی بات ہے ملک یونان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ اپنے سب ہی وزیروں پر بھروسہ کرتا لیکن ان میں ایک وزیر جس کا نام فیصل تھا اسے بادشاہ بہت پسند کرتا اور حکومتی معاملے میں فیصل سے اکثر مشورے لیا کرتا۔فیصل کی نیت کا بادشاہ کو ہرگز علم نہیں تھا۔وہ اس پر بہت اعتماد کرتا جبکہ فیصل کسی نہ کسی طرح بادشاہ کی حکومت کا تختہ گر ا کر خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔

اطہر اقبال:
بہت دن پہلے کی بات ہے ملک یونان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ اپنے سب ہی وزیروں پر بھروسہ کرتا لیکن ان میں ایک وزیر جس کا نام فیصل تھا اسے بادشاہ بہت پسند کرتا اور حکومتی معاملے میں فیصل سے اکثر مشورے لیا کرتا۔فیصل کی نیت کا بادشاہ کو ہرگز علم نہیں تھا۔وہ اس پر بہت اعتماد کرتا جبکہ فیصل کسی نہ کسی طرح بادشاہ کی حکومت کا تختہ گر ا کر خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔
دن یوں ہی گزرتے گئے۔وزیر فیصل نے اپنے ساتھ کچھ اور وزیروں کو بھی ملا لیا اور انہیں ساتھ دینے پر انعام کا لالچ بھی دیا۔بہت سے وزیر انعام و اکرام کے لالچ میں فیصل سے مل گئے اور پھر ایک دن فیصل نے بادشاہ کوختم کرنے کا ایک منصوبہ بھی بنا لیا۔ہوایوں کہ بادشاہ اپنی رعایا کا حال معلوم کرنے کے لئے اپنے وزیروں کے ساتھ ایک قافلے کی صورت میں باہر نکلا تووزیر فیصل نے بادشاہ سے کہا۔”قریب ہی جنگل میں بہت نایاب تیتر آئے ہوئے ہیں،کیوں نہ ان کا شکار کیا جائے۔“بادشاہ تیتروں کا بہت شوقین تھا لہذااس نے حامی بھر لی اور پھر یہ سب جنگل میں تیتروں کا شکار کھیلنے نکل پڑے۔جنگل بڑا خطرناک تھا۔یہاں جنگلی جانور گھومتے رہتے تھے۔فیصل وزیر نے انتہائی چلاکی سے بادشاہ کو جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا اور خود باقی وزیروں کے ساتھ محل واپس آگیا۔اور یہ اعلان کرایا کہ۔”بادشاہ سلامت کو جنگل میں شیر نے کھا لیا ہے،بادشاہ سلامت سے چونکہ میں زیادہ قریب تھا لہذا آج سے میں بادشاہ ہوں“کچھ دوسرے وزیر جو بادشاہ کے وفادار تھے افسوس کرنے لگے اور مجبوراََ انہوں نے فیصل کو ہی اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔کچھ دن یوں ہی گزر گئے ایک دن اصل بادشاہ انتہائی خستہ حالت میں اپنے محل تک آپہنچا اب جو وزیروں نے دیکھا کہ بادشاہ تو زندہ ہے۔تو ان کی گھِگی بندھ گئی جبکہ بادشاہ کے وفادار وزیر خوش ہوئے۔بادشاہ نے کہا کہ”مجھے فیصل اور اس کے ساتھی وزیر مرنے کے لئے مجھے جنگل میں چھوڑ آئے تھے اور انہیں یقین تھا کہ مجھے کوئی جانور وغیرہ کھا گیاہوگا لیکن جب تک میری زندگی اللہ نہ لکھی ہے مجھے کچھ نہیں ہوسکتا۔میں نے فیصل پر سب سے زیادہ اعتماد کیا یہی”آستین کا سانپ نکلا۔“یہ کہہ کر بادشاہ نے فیصل وزیر کو اس کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ قید کروا دیا۔

Related posts