تازہ ترین
بولونیا: معروف سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری شبیر احمد ککرالی سے ان کے بھائی چوہدری محمد سلیم کی وفات پر اظہار تعزیت         امریکہ: 5 ویں ہندکو انٹر نیشنل کانفرنس نیو یارک،ادب سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق شخصیات کی شرکت         امریکہ میں تحریک انصاف کے ارکان کی فہرست آن لائن شائع کردی گئیں         مسلم لیگ ن ہی محب وطن سیاسی جماعت ہے عوام کسی اور کے بہکاؤے میں نہ آئیں ۔۔ شمروز الٰہی گھمن         پیرس ادبی فورم اور غزالی ٹرسٹ کے تعاون سے —-ایک خوب صورت شام تعلیم کے نام — کی حتمی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ         بارسلونا میں فیضان مدینہ مسجد میں زندہ پیر گهمگول شریف کے سالانہ عرس کی تقریب. عرس مبارک کی تقریب کے آرگنائزر حاجی راجہ اسد کی طرفسے قرعہ اندازی کے ذریعے عمر دیا گیا. اہل ایمان کی بھر پور شرکت         ممتاز بزنس مین چوہدری امانت حسین مہر نجی دورہ پر سپین سے پاکستان روانہ ہوگئے         فرانس : 15 اکتوبر سے مرکزی پارٹی طرز پر یورپین ممبر شپ ڈرائیو کا آغاز ہو چکا ہے، یاسر اقبال خان         اٹلی کے شہر بولونیا میں عوامی خدمت کے ادارے ”یورو سروسز“ کی افتتاحی تقریب کی تصویری جھلکیاں پاکستانی سفارتخانہ میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن تنویر احمد اور ویلفیئر اتاشی ڈاکٹر رضوان صلابت سمیت ہموطنوں کی بڑی میں شرکت         بولونیا میں عوامی خدمت کے نئے ادارے ”یورو سروسز“ کا افتتاح اٹلی بھر سے پاکستانی و اطالوی کمیونٹی سمیت سیاسی،سماجی،مذہبی و کاروباری شخصیات کی شرکت،         سپین: نعیم عباس بهٹی کو اللہ تعالٰی نے بیٹے اور بیٹی کی نعمت سے نوازا حافظ عبدالرزاق صادق نے ان کے اعزاز میں ذیشان کبابش ریسٹورنٹ پر ظہرانہ دیا         اٹلی ۔۔۔ انصاف چوک میں چودھری خالد سراں کی سربراہی میں انٹر اپارٹی الیکشن کے خوالے سے خصوصی بات چیت         بولونیا (ااٹلی) چوہدری ظفر علی رانجھا کی جانب سے سرپرستِ اعلیٰ سفیرانِ پاکستان گروپ بولونیا اٹلی محمد بوٹے خان کے صاحبزادوں کو پاکستان سے واپسی پرشادی کی مبارکباد کے سلسلہ میں شاندار عشائیہ دیا گیا         اٹلی: بریشیا میں شہادتِ امام حسین ؑکے حوالے سے تقریب کا انعقاد، مومنین و کمیونٹی کی بھرپور شرکت         آسڑیلیا میں سٹیج پلے کامیڈی چسکہ، پاک آسٹر یلیا کے صدر ارشد نسیم بٹ نے فنکاروں کا پرتپاک استقبال کیا        

آستین کا سانپ بننا

آستین کا سانپ بننا

بہت دن پہلے کی بات ہے ملک یونان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ اپنے سب ہی وزیروں پر بھروسہ کرتا لیکن ان میں ایک وزیر جس کا نام فیصل تھا اسے بادشاہ بہت پسند کرتا اور حکومتی معاملے میں فیصل سے اکثر مشورے لیا کرتا۔فیصل کی نیت کا بادشاہ کو ہرگز علم نہیں تھا۔وہ اس پر بہت اعتماد کرتا جبکہ فیصل کسی نہ کسی طرح بادشاہ کی حکومت کا تختہ گر ا کر خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔

اطہر اقبال:
بہت دن پہلے کی بات ہے ملک یونان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ اپنے سب ہی وزیروں پر بھروسہ کرتا لیکن ان میں ایک وزیر جس کا نام فیصل تھا اسے بادشاہ بہت پسند کرتا اور حکومتی معاملے میں فیصل سے اکثر مشورے لیا کرتا۔فیصل کی نیت کا بادشاہ کو ہرگز علم نہیں تھا۔وہ اس پر بہت اعتماد کرتا جبکہ فیصل کسی نہ کسی طرح بادشاہ کی حکومت کا تختہ گر ا کر خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔
دن یوں ہی گزرتے گئے۔وزیر فیصل نے اپنے ساتھ کچھ اور وزیروں کو بھی ملا لیا اور انہیں ساتھ دینے پر انعام کا لالچ بھی دیا۔بہت سے وزیر انعام و اکرام کے لالچ میں فیصل سے مل گئے اور پھر ایک دن فیصل نے بادشاہ کوختم کرنے کا ایک منصوبہ بھی بنا لیا۔ہوایوں کہ بادشاہ اپنی رعایا کا حال معلوم کرنے کے لئے اپنے وزیروں کے ساتھ ایک قافلے کی صورت میں باہر نکلا تووزیر فیصل نے بادشاہ سے کہا۔”قریب ہی جنگل میں بہت نایاب تیتر آئے ہوئے ہیں،کیوں نہ ان کا شکار کیا جائے۔“بادشاہ تیتروں کا بہت شوقین تھا لہذااس نے حامی بھر لی اور پھر یہ سب جنگل میں تیتروں کا شکار کھیلنے نکل پڑے۔جنگل بڑا خطرناک تھا۔یہاں جنگلی جانور گھومتے رہتے تھے۔فیصل وزیر نے انتہائی چلاکی سے بادشاہ کو جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا اور خود باقی وزیروں کے ساتھ محل واپس آگیا۔اور یہ اعلان کرایا کہ۔”بادشاہ سلامت کو جنگل میں شیر نے کھا لیا ہے،بادشاہ سلامت سے چونکہ میں زیادہ قریب تھا لہذا آج سے میں بادشاہ ہوں“کچھ دوسرے وزیر جو بادشاہ کے وفادار تھے افسوس کرنے لگے اور مجبوراََ انہوں نے فیصل کو ہی اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔کچھ دن یوں ہی گزر گئے ایک دن اصل بادشاہ انتہائی خستہ حالت میں اپنے محل تک آپہنچا اب جو وزیروں نے دیکھا کہ بادشاہ تو زندہ ہے۔تو ان کی گھِگی بندھ گئی جبکہ بادشاہ کے وفادار وزیر خوش ہوئے۔بادشاہ نے کہا کہ”مجھے فیصل اور اس کے ساتھی وزیر مرنے کے لئے مجھے جنگل میں چھوڑ آئے تھے اور انہیں یقین تھا کہ مجھے کوئی جانور وغیرہ کھا گیاہوگا لیکن جب تک میری زندگی اللہ نہ لکھی ہے مجھے کچھ نہیں ہوسکتا۔میں نے فیصل پر سب سے زیادہ اعتماد کیا یہی”آستین کا سانپ نکلا۔“یہ کہہ کر بادشاہ نے فیصل وزیر کو اس کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ قید کروا دیا۔

Related posts