تازہ ترین
نواز شریف کی مہم جوئی جمہوریت کیلئے خطرناک ثابت ہوگی: زاہدہ ملک اعوان         عدالتی فیصلوں سے نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، عہدے آنی جانی چیزیں ہیں: ظہیر الدین ظفر راں         پاکستان پریس کلب مڈلینڈ زانٹرنیشنل کا اہم سالانہ اجلا س ۔ با ہمی مشاورت کے بعد تنظیم نو کا اعلان آصف محمود برا ٹلوی صدر ، راجہ ناصر محمود جنرل سیکرٹری         ’مسلم اشتہار‘ کیا جرمن معاشرہ اسلام پسندی کی طرف جا رہا ہے؟         انتخابی اصلاحات کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ عین میرٹ اور حقیقی معنوں میں پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ھے-محمد شہباز ملک         سابق جنوبی افریقی بلے باز ہرشل گبز کویت کرکٹ ٹیم کے کوچ مقرر         جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے زیراہتمام لوٹن میں حریت پسند کشمیری راہنما مقبول بٹ شہید کی چونتیسویں برسی کا انعقاد کیا گیا         پاکستان اسپورٹس ایسوسی ایشن کویت کے زیر اہتمام تیسرے بلڈ ڈونیشن کا انعقاد         لودھراں میں عوام نے جھوٹی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، اقبال شاہ قریشی کی کامیابی نے نواز شریف کی اہلیت کا فیصلہ کر دیا، لیگی رہنماؤں خالد گوندل، رزاق چھنی، فیصل چیچی، راشد بھٹی، دلشاد چھنی اور اکرام شہزاد کا مشترکہ بیان         نواز شریف کسی پارٹی صدارت کا مرہون منت نہیں ۔ پاکستان اس طرح کے فیصلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا نواز شریف جس پر ہاتھ رکھیں گے وہی جیتے گا۔ ۔ مسلم لیگ (ن) فرانس         لودھران کے عوام نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروا کر پاکستان میں خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے، راجہ شفیق پلاہلوی         پیرس ادبی فورم اور ہیومن رائٹس آرر ڈان ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام شام محبت تقریب کا انعقاد         کشمیر کونسل ای یو کنن۔پوشپورہ (مقبوضہ کشمیر) کے واقعے کو یورپ میں ایک بار پھر اٹھانے کے لیے جمعہ کو مہم شروع کر رہی ہے         جنوبی کوریا: دہنگ انچھن میں اورینٹل ریسٹورنٹ کی افتتاحی تقریب افتتاح چیرمین پاکستانی کمیونٹی کوریاشفیق خان کیا         نیویارک میں اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی میاں منیر (ڈسٹرکٹ چئیرمین اوورسیز پاکستانی کمیشن ، پارلیمانی سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن )سے سینئر صحافی محسن ظہیر کی ملاقات        

حاتم طائی کا ایثار

حاتم طائی کا ایثار

عرب میں اسلام سے پہلے جہاں ہر طرف برائیاں ہی برائیاں تھیں وہاں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔جن میں سے ایک حاتم بھی تھا۔حاتم کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔جن میں سے اگر مبالغہ نکال بھی دیا جائے تو پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ حاتم کی سخاوت ضرب المثل ہے۔اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت مثالی ہے،اُن کے بارے میں بے شمار واقعات مشہور ہیں۔

کے این خان:
عرب میں اسلام سے پہلے جہاں ہر طرف برائیاں ہی برائیاں تھیں وہاں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔جن میں سے ایک حاتم بھی تھا۔حاتم کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔جن میں سے اگر مبالغہ نکال بھی دیا جائے تو پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ حاتم کی سخاوت ضرب المثل ہے۔اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت مثالی ہے،اُن کے بارے میں بے شمار واقعات مشہور ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ حضرت عثمان غنی کے مال وزر اور عطیات وسخاوت کی وجہ سے اسلام کے پھیلاؤ میں بڑی سہولت پیدا ہوئی۔
حاتم کا تعلق”طے“نامی ایک قبیلے سے تھا۔اِسی کی نسبت سے اُسے حاتم طائی کہا جاتا ہے۔وہ یمن کا حکمران تھا۔یمن کا علاقہ عرب سے جڑا ہوا تھا۔عرب پر اُن دنوں نوفل نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔وہ حاتم کی سخاوت اور علاقے میں مقبولیت سے بہت پریشان تھا۔اُس کی سخاوت سے محض یمن کے لوگ ہی فائدہ نہیں اٹھاتے تھے بلکہ اُس تک پہنچ جانے والا ہر شخص اُسکی سخاوت سے فائدہ اٹھاسکتا تھا۔بہت سے لوگ تو محض اس کا امتحان لینے ہی اس کے پاس چلے جاتے اور وہ ہمیشہ ہر امتحان میں کامیاب ہوا۔ایک مرتبہ کسی کو معلوم ہوا کہ حاتم طائی کے ذاتی استعمال کا گھوڑا بہت قیمتی ہے کیوں نہ وہ حاصل کیا جائے،چنانچہ ایک شخص اُسکا امتحان لینے پہنچ گیا۔
حاتم اُس روز شکار کرنے کیلئے نکلا ہوا تھا۔اتفاق سے اُس روز اُسے شکار بھی نہیں ملا۔جب وہ واپس پہنچا اور اُسے معلوم ہوا کہ کوئی مہمان اُس کا انتظار کر رہا ہے تو اُس نے اپنے ملازمین سے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا۔ایک ملازم نے کہا؛”سرکار آج کھانے میں گوشت کا سالن نہیں بن سکے گا کیونکہ تازہ گوشت نہیں ہے۔“
حاتم کی غیرت اس بات کو گوارا نہیں کرسکتی تھی کہ اُس کے دسترخوان پر مہمان کیلئے گوشت کا سالن بھی نہ ہو۔اُس نے کہا آج ہمارا محبوب گھوڑا ہی ذبح کر کے پکا لیا جائے۔یہ فیصلہ ہوئے اُسے شدید دکھ بھی ہورہا تھا مگر اسکے سوا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔
کھانا تیار ہوا،حاتم نے اپنے مہمان کی تواضع میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔مہمان بھی بہت خوش تھا۔صبح جب مہمان کے جانے کا وقت ہوا تو مہمان نے رخصت ہونے سے قبل اُسکی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے حاتم کی سخاوت کی بڑی شہرت سنی ہے اگر وہ اپنا پسندیدہ گھوڑا بھی اُسے عنایت کردے تو بڑی بات ہوگی۔
حاتم اُس کی یہ بات سن کر کچھ افسردہ ہوا مگر پھر کہنے لگا میرے معزز مہمان یہ فرمائش اگر آپ گزشتہ سال سے پہلے ہی کردیتے تو اس کی تعمیل ضرور کرتا مگر اب یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ میرا پسندیدہ گھوڑا اب آپ کے پیٹ میں پہنچ چکا ہے۔اسکے ساتھ ہی اُس نے ساری مجبوری بتائی اور اُسے اشرفیوں سے بھری تھیلی نذرانہ کے طور پر دی کہ اس دولت سے وہ اس گھوڑے سے بھی قیمتی گھوڑا خرید سکے گا۔مہمان حاتم کی سخاوت کا گرویدہ ہونے کے ساتھ ساتھ پشیمان بھی تھا کہ اُس کی وجہ سے ایک قیمتی گھوڑا ذبح ہو گیا۔اس نے اشرفیوں کی تھیلی لینے سے انکا ر کردیا مگر حاتم نے کہا یہ آپ کو رکھنا ہی ہوگی۔کیونکہ میں اپنے مہمان کی فرمائش پوری نہ کرسکا ہوں۔
حاتم سخی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نرم دل بھی تھا۔اُس روز اسے اس بات کا ملال ہورہا تھا کہ وہ اپنے مہمان کی خواہش پوری کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ مہمان اُس کی نرم دلی اور سخاوت کے گُن گاتا ہوا اپنے گھر چلاگیا۔ادھر عرب کا نوفل بادشاہ سوچ رہا تھا کہ اگر حاتم کی سخاوت اور مقبولیت اسی طرح بڑھتی رہی تو پھر لوگ اُس کی ہی طرف جائیں گے کوئی اُسکی طرف نہ آئے گا۔اس نے ایک بہادر اور طاقتور سپاہی سے کہا کہ وہ حاتم کو قتل کردے،اسکے عوض اسے بھاری انعام ملے گا۔حاتم کیونکہ نیک دل اور سخی انسان تھا ،اسلئے وہ اپنے ساتھ محافظ نہیں رکھتا تھا۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ موت جب آنی ہے تب ہی آئیگی اور جب آئے گی تو کوئی محافظ اسے بچا نہیں سکے گا۔بادشاہ نوفل کا بھیجا ہوا سپاہی ایک مہمان کے روپ میں حاتم کے محل پہنچ گیا۔ایک رات جب سب لوگ سورہے تھے۔وہ سپاہی خاموشی سے حاتم کی خوابگاہ تک پہنچ گیا۔اس نے دیکھا کے حاتم گہری نیند سورہا ہے۔ تو اس نے اپنی کمر سے بندھے خنجر کو نکالا اور پوری طاقت سے اُس پر وار کر دیا۔عین اُسی وقت حاتم نے کروٹ لی اور سپاہی کا نشانہ چونک گیا۔اور وہ حاتم کے اوپر گرگیا۔حاتم اس دوران نیند سے بیدار ہوچکا تھا۔اس نے اپنے مہمان سپاہی کو قابو کرلیا اور اس سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہے؟کیا اسکی مہمان نوازی میں کوئی کمی رہ گئی تھی؟
سپاہی نے حاتم کو صاف صاف بتا دیا کہ وہ یہاں کس لئے آیا تھا۔حاتم نے اسے کہا مجھے قتل کر کے اگر تمہیں دولت ملتی ہے تو فوراََ قتل کردے۔اس سے پہلے کے میرے ملازم آجائے تم مجھے مار سکتے ہو میں مزاحمت نہیں کرونگا“۔سپاہی یہ سمجھ رہا تھا کہ اب اس کی موت آگئی کیونکہ حاتم کی پکڑ سے اس کا نکل جانا ممکن نہیں تھا۔
حاتم کا یہ رویہ دیکھ کر سپاہی کہنے لگا حضور مجھے معاف کردیں،مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔میں توبہ کرتا ہوں اور آئندہ سے ہمیشہ آپ کا وفادار رہوں گا۔حاتم نے نہ صرف اسے معاف کردیا بلکہ اشرفیوں سے بھری تھیلی بھی دی کیونکہ اُسے یہ گوارا نہیں تھا کہ اس کا مہمان اس کے گھر سے خالی ہاتھ جائے۔

Related posts