تازہ ترین
آسڑیلیا میں سٹیج پلے کامیڈی چسکہ، پاک آسٹر یلیا کے صدر ارشد نسیم بٹ نے فنکاروں کا پرتپاک استقبال کیا         پیرس کے علاقہ بوبینی میں واقع لاپیلس ریسٹورنٹ میں کشمیری رہنما زاہد ہاشمی کی قیادت میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیاگیا         ادارہ منہاج القرآن انٹرنیشنل فرانس میں نمازِ جمعتہ المبارک کےبعدچوهدری ممتاز پکهوال کےبزنزپاٹنرسیداجمل حیسن شاہ کےبیٹےکی فاتح خوانی.         بولونیا/اٹلی:: بے گھر افراد سے اظہار یکجہتی کیلئے ہونیوالی واک کی تصویری جھلکیاں، دوسری مدت کیلئے منتخب بولونیا شہر کے 61 سالہ میئر Virginio Merola (انتہائی بائیں) کی بھی شرکت،         بولونیا میں نئے ادارے ”یورو سروسز“ کی افتتاحی تقریب کل ہوگی،         پاکستان تحریک انصاف یو تھ ونگ راولپنڈی کی شان ملک عظیم کا دبئی ائر پو رٹ پر تحریک انصاف یو تھ ونگ یو اے ای نے شاندار استقبال کیا         سویڈن: سفارت کی زمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد سفیر طارق ضمیر کے اعزاز میں الوداعی لنچ کا اہتمام         پیام امن سپین کی صدر جوزفین کرسٹینا نے بارسلونا کی معروف سیاسی سماجی شحصیات انصر اقبال آف اختر کرنانہ اور شاہد چئیرمین سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا         ادارہ منہاج القرآن انٹرنیشنل فرانس میں نمازِ جمعتہ المبارک کے بعد علامہ حسن میر قادری ڈائریکٹر منہاج چوهدری محمد اعظم صدرمنهاج القرآن انٹرنیشنل فرانس         مسلم لیگ نون یورپ کے چیف کوارڈینیٹر حافظ امیر علی اعوان کی ماضی کے نڈر صحافی کثیر الاشاعت جریدے چٹان کے ایڈیٹر اور شعلہ بیان مقرر شورش کاشمیری کے بیٹے آغا مشہود سے ملاقات اور حاضرہ پر تبادلہ خیال         مسلم لیگ ن سپین کے صدر حاجی راجہ اسد کا بارسلونا ائیر پورٹ پر استقبال. مسلم لیگ ن سپین کے جنرل سیکرٹری الیگزینڈر راجو اور مسلم لیگ ن کتلونئا کے صدر راجہ ساجد .ممتاز سہوترہ اور رضوان زاہد نے پھول پیش کر کے استقبال کیا         اٹلی چوہدری افتخار احمد چھنی اور چوہدری افضال کے اعزاز میں پی ٹی آئی اٹلی عوام دوست گروپ کی طرف سے شاندارعشائیہ         بولونیا میں نئے ادارے ”یورو سروسز“ کی افتتاحی تقریب 22 اکتوبر کو ہوگی، تارکین وطن کو ایک ہی چھت تلے متعدد سہولتیں دستیاب ہونگی، چیف ایگزیکٹو آصف رضا         فیشن ڈیزائننگ کے زریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کروں گی یو ر پین فیشن ڈیزائنر،نینا خان         جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ زون اور بیلجئم برانچ کا ایک اہم اجلاس برسلز میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ کے صدر تنویر احمد چوہدری کی زیرصدارت منعقد ہوا        

خود غرض لومڑی

خود غرض لومڑی

مرغی،لومڑی کو جھاڑیوں کے پاس بیٹھی دیکھ کر ٹھٹک گئی۔وہ محتاط قدموں سے یہ دیکھنے کے لئے آگے بڑھی کہ لومڑی یہاں کیا کررہی ہے۔اس نے دیکھا،لومڑی کی دُم ایک لوہے کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے،جسے وہ چھرانے کی کوشش کر رہی ہے۔اتنے میں لومڑی کی نظر مرغی پر پڑگئی۔

جاوید اقبال:
مرغی،لومڑی کو جھاڑیوں کے پاس بیٹھی دیکھ کر ٹھٹک گئی۔وہ محتاط قدموں سے یہ دیکھنے کے لئے آگے بڑھی کہ لومڑی یہاں کیا کررہی ہے۔اس نے دیکھا،لومڑی کی دُم ایک لوہے کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے،جسے وہ چھرانے کی کوشش کر رہی ہے۔اتنے میں لومڑی کی نظر مرغی پر پڑگئی۔”آؤ آؤ بہن!کیا حال ہے؟لومڑی نے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔”یہ کیا ہوا؟“ مرغی نے لومڑی کی شکنجے میں پھنسی ہوئی دم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
لومڑی نے کہا:”بہن! اس نامراد شکنجے کے ساتھ گوشت کا ٹکڑا لگا ہوا تھا۔میں نے اسے کھانا چاہا تو ایک زور کی آواز آئی اور میری دُم اس میں پھنس گئی۔“
مرغی نے کہا:”لیکن تم تو بہت چالاک اور ذہین ہو،تم اس میں کیسے پھنس گئیں؟“
مرغی سوچ رہی تھی کہ کہیں لومڑی کوئی چال نہ چل رہی ہوں۔“
لومڑی بولی:”بہن!لالچ بُری بلا ہے۔گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر میرا دل للچا گیا۔اگرتم میری مدد کروتومیں شکنجے سے آزاد ہوسکتی ہوں۔“
مرغی نے کہا:”ابھی دو دن پہلے تم نے میرے ننھے منھے بچے کو پھاڑ کھایا تھا،پھر بھی مجھ سے مدد کی توقع رکھتی ہوں۔“
لومڑی نے کہا :”بہن مجھ سے غلطی ہوگئی۔میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔دیکھو میرا تم پر ایک احسان بھی تو ہے!“
”کیسا احسان؟“مرغی نے حیرت سے کہا۔
”دیکھو میری وجہ سے تم اور تمہارے بچے محفوظ ہیں۔میں تمھاری ہمسائی نہ ہوتی تو لوگ تمھیں اورتمھارے بچوں کو پکڑ کرلے گئے ہوتے۔“
لومڑی کی بات سن کر مرغی سوچ میں پڑگئی کہ لومڑی کی مدد کرے کہ نہ کرے۔
مرغی کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر لومڑی چالاکی سے بولی:بہن! کیا سوچ رہی ہوں،دیر نہ کرو رنہ شکاری آجائے گا۔میری توجان جائے گی،میرے ساتھ تم اور تمھارے بچے بھی نہ بچ سکیں گے۔“
مرغی،لومڑی کی چال میں آگئی۔وہ اس کے پاس چلی آئی اور غور سے اس کی پھنسی دُم کو دیکھنے لگی۔اس نے لوہے کے شکنجے کا اپنی چونچ سے ٹھونگیں ماریں،پنجے سے کریدا،پھر بولی:”یہ تو بہت مظبوط ہے،میں اسے نہیں کھول سکتی۔“
لومڑی سر گھما کر بولی:”لو،میں بھی اپنے پنجے سے زور لگاتی ہوں۔“
دونوں نے مل کر زور لگایا تو شکنجے کا اوپری حصہ کچھ اوپر اُٹھا۔لومری نے اپنی دُم کو باہر کھینچ لیا اور جلدی سے شکنجے کو چھوڑدیا،جس سے شکنجے کی نوک ٹھک سے مرغی کے پنجے پر گری اور اس کا پنجہ شکنجے میں پھنس گیا۔
لومڑی نے اپنی دُم کو جھاڑا،سہلایا۔اس کی دُم کے بہت سارے بال اُکھر گئے تھے ۔وہ اپنی زخمی دُم اُٹھائے جنگل کی طرف چل پڑی۔
لومڑی کو جاتے دیکھ کر مرغی نے کہا:”بہن کہاں چلیں،میرا پنجہ تو چھڑاتی جاؤ؟“
لومڑی بولی:”بہن میری دُم پر زخم ہو گیا ہے۔میں ذرا گھر جا کر مرہم پٹی کرلوں،پھر آکر تمہیں آزاد کرتی ہوں۔“یہ کہہ کر لومڑی جنگل کی طرف بڑھ گئی۔اس کا رُخ مرغی کے گھر کی طرف تھا،جہاں مرغی کے بچے اکیلے تھے۔
وہ خیالوں میں ہی ان کے مزے دار گوشت کے چٹخارے لیتی تالاب کے کنارے پہنچی اور پھر جیسے ہی اس نے مرغی کے گھر میں داخل ہونا چاہا۔ایک کالی بلاسی اس پرجھپٹی،اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی،اسے زور کا ایک دھکا لگا۔وہ اُڑکر دور جا گری۔اسی وقت اس نے بھیا ریچھ کو مرغی کے گھر سے نکل کر اپنی طرف آتے دیکھا تو دُم دبا کر وہاں سے بھاگی۔
مرغی،بھیاریچھ کو اپنے گھر اور بچوں کی حفاظت کا کہہ کر گئی تھی۔بھیاریچھ مرغی کو ڈھونڈنے نکلے۔جھاڑیوں کے پاس انہیں مرغی مل گئی۔انہوں نے اس کا پنجہ شکنجے سے نکالا اور اسے اس کے گھر تک چھوڑنے آئے۔
لومڑی ریچھ کے ڈر سے یہ جنگل ہی چھوڑ گئی اور کسی دوسری جگی جا بسی۔

Related posts