تازہ ترین
ویانا حاجی فضل حسین کی ہمشیرہ ،پرویز اقبال عزیز کی والدہ محترمہ اور حاجی عزیز مرحوم کی اہلیہ کا نماز جنازہ اداکر دیا گیا         پاکستان تحریک انصاف سپین کے صدر محمد شہباز ملک اور سینئر نائب صدر محمد افضال چیمہ کی بنی گالا میں چیئرمیں پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور دیگر راہنماوں سے ملاقات         جماعت اہل سنت ویلفئیر منہائیم جرمنی کے زیرِاہتمام جشن عید میلادالنبیﷺ کا انعقاد         اٹلی: اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے، احسان: پاکستانی یوتھ پراتو کے زیرِ اہتمام قائد ڈے کی شاندار تقریب، سفیر پاکستان سفارت خانہ روم ندیم ریاض کی خصوصی شرکت، بابائے قوم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا         پاکستانی کمیونٹی روس کے مرکزی دفتر ماسکو میں پاکستان تحریک انصاف کے ماسکو کے زیرِ انتظام قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کی مزمت کے سلسلے میں روس میں ریائش پزیر پاکستانیوں کی احتیجاجی میٹنگ         ویانا میں ایک اور پاکستانی مسلمان کو وفات کے بعد جلا دیا گیا لمحہ فکریہ         منہاج القرآن سنٹر ویانا میں ملک انور کی والدہ مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی اور ذکر نعت محفل کا انعقاد کیا گیا تصویری جھلکیاں (اکرم باجوە ویانا)         مانچسٹر (یو،کے) راجہ اسلم اغرانہ آف پوران کے اعزاز میں راجہ رفیق احمد کھانگا کا دوست احباب کے اعزاز نیں پرتکلف ظہرانہ         مسلم لیگ نون یو،کے کے صدر فیڈرل کمیشنر برائے اوور سیز پاکستانیز زبیرگل کی دورہ پاکستان کے دوران مسلم لیگ نون کے ایک جلسہ میں شرکت خطاب، مسلم لیگ نون لاہو ر ڈویژن کے صدر حافظ جمیل جرال نے میزبانی کی         آرٹس کونسل پاکستان کراچی نے شاعرہ و نثر نگار سمن شاہ کو فرانس میں آرٹس کونسل کراچی کا ثقافتی مشیر مقرر کر دیا-         اٹلی راجہ عبدالقیوم اور راجہ عبدالرزاق آف پوران کا پاکستان تحریک انصاف اٹلی کے صدر فہد حسین چیمہ کے اعزاز میں ڈنر         قبلہ اول کو صیہونی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا راجہ ریاض صدر پاکستان مسلم لیگ (نواز) سعودی عرب         معروف کمیونٹی رہنما عبدالحق دتیوال کا دست و احباب کے ساتھ سوشل گیٹ ٹو گیدر         امیر اسلامک سوسائٹی اٹلی محمود شریف جنرل سیکریڑی عاطف نزیر ارکان جماعت و کارکنان کی طرف سے قصور واقعہ کی بھرپور مزمت         زینب کا قاتلوں کا تاحال گرفتار نہ ہونا افسوس ناک ہے: بلال حسین جنجوعہ        

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ

خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق روشن ہیں جس سے قیامت تک آنے والے لوگ ہدایت و راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔آپ کا نام علی، لقب حیدر و مرتضٰی، کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے۔ آپ کے والد ابو طالب اور حضورﷺ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ دونوں بھائی بھائی ہیں۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔ ماں باپ دونوں طرف سے آپ ہاشمی ہیں۔ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ میں ہاشمی سرداروں کی تمام خصوصیات موجود اور چہرے سے عیاں تھیں۔ بدن دوہرا، قدمیانہ، چہرہ روشن و منور، داڑھی گھنی اور حلقہ دار، ناک بلند، رخساروں پر گوشت، غلافی اور بڑی آنکھیں، پیشانی کشادہ۔آپ معمولی لباس زیب تن فرماتے، آپ کا عبا اور عمامہ بھی سادہ تھے۔آپ کی گفتگو علم و حکمت اور دانائی سے بھرپور ہوتی۔ بچپن سے ہی ﷺکی آغوشِ محبت میں پرورش پائی۔ حضورﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی خاتونِ جنت سیدہ حضرت فاطمتہ الزہرارضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا اور ان ہی سے آپ کی اولاد ہوئی۔
خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ میں تلوار کے دھنی اور مسجد میں زاہدِ شب بیدار اور علم و عرفان کا سمندر تھے۔ مجاہد و جانباز ایسے تھے کہ نہ دنیا کو ترک کیا نہ آخرت سے کنارہ کشی فرمائی، ان سب کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے، نمک، کھجور، دودھ گوشت سے رغبت تھی، غلاموں کو آزاد کرتے، کھیتی کی دیکھ بھال کرتے، کنویں سے پانی نکالتے، اپنے دور خلافت میں بازاروں کا چکر لگا کر قیمتوں کی نگرانی فرماتے۔گداگری سے لوگوں کو روکتے ،جو لوگ راستہ بھول جاتے انہیں راستہ بتاتے اور بوجھ اٹھانے والوں کی مدد کرتے۔جب نماز کا وقت آتا تو آپ کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا اور چہرے پر زردی چھا جاتی، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ”اس امانت کی ادائیگی کا وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر اتارا تو وہ اس بوجھ کو اٹھانے سے عاجز ہو گئے“۔
سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، ہر معرکہ میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی شجاعت و بہادری اور فداکاری کا لوہا منوایا بدر و احد، خندق و حنین اور خیبر میں اپنی جرآت و بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ہجرت کی شب حضورﷺ کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے، اور آپ نے آخری وقت میں حضورﷺکی تیمارداری کے فرائض سرانجام دیئے۔ آپ ”عشرہ مبشرہ“ جیسے خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں بھی شامل ہیں جن کو حضورﷺنے دنیا میں ہی جنت کی بشارت و خوشخبری دی اور خلافتِ راشدہ رضی اللہ عنہ کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے، ، 9ھ میں جب حضورﷺ نے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ”امیر حج“ بنا کر روانہ کیا اور ان کی روانگی کے بعد سورہ برآت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ پر حضورﷺ نے سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو مامور کیا۔حضورﷺنے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے کو محرومی کا سبب قرار دیا۔ آپ بہت زیادہ عبادت گزار تھے، امام حاکم رضی اللہ عنہ نے زبیر بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے کسی ہاشمی کو نہیں دیکھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ عبادت گزار ہو۔ اْمّ المئومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت زیادہ روزہ دار اور عبادت گزار تھے۔ آپ بہت زیادہ سخاوت کرنے والے تھے کوئی سائل و حاجت مند آپ کے در سے خالی نہ جاتا تھا۔آپ ”بیعتِ رضوان“ میں شریک ہوئے اور ”اصحابْ الشجرہ“ کی جماعت میں شامل ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں راضی ہونے اور جنت کی بشارت و خوشخبری دی، حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے جنگ خیبر کے دن فرمایا کہ کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دونگا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا، وہ شخص اللہ اور اس کے رسولﷺسے محبت رکھتا ہو گا پھر جب صبح ہوئی تو لوگ حضورﷺ کے پاس گئے، سب لوگ اس بات کی امید (اور خواہش) رکھتے تھے کہ جھنڈا ان کو دیا جائے مگر آپﷺ نے پوچھا کہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ان کی آنکھیں آشوب کی ہوئی ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ ان کو بلواؤ وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) لائے گئے، حضورﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ اچھے ہو گئے گویا کہ ان کی آنکھوں میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں، پھر آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا (صحیح بخاری و مسلم)

Related posts