تازہ ترین
وطن کی مٹی عظیم ہے تو ۔۔۔ عظیم تر ہم بنا رہے ہیں:اٹلی کے شہر بولزانو میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 70 ویں یومِ آزادی کی شاندار اور رنگا رنگ تقریب پورے تزک و ا حتشام سے منائی گئی، پاکستانی کمیونٹی بولزانو وطن سے اظہارِ محبت کیلئے جوق در جوق کولپنگ ہاؤس پہنچ گئی،ہر زبان پر ’سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ، پاکستان کی خاطر تن من دھن قربان کا عزم: رپورٹ، بلال حسین جنجوعہ         ساؤتھ افریقہ: پاکستان ساؤتھ افریقہ ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستان کے سترویں یومِ آزادی کی تقریب کو شایانِ شان انداز سے منایا گیا، چیف کوارڈینیٹر مسلم لیگ نون یورپ حافظ امیر علی اعوان کی خصوصی شرکت         مسلم لیگ ن آزاد کشمیر سپین کے صدر راجہ گلفراز ایڈووکیٹ اور سردار اکرم نائب صدر ن لیگ آزاد کشمیر سپین کی طرف سے ملک محمد حنیف صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر یوتھ ونگ کے اعزاز میں ھمالیہ ریسٹورنٹ میں عشائیہ         فرانس: استاد آصف سنتو خان اور ہمنواؤں کا شاندار قوالی پروگرام، کمیونٹی و قوالی شائقین کی کثیر تعداد میں شرکت         یو،کے: امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کی دین اسلام کے لیے گراں قدر خدما ت کو تا قیام قیامت یا د رکھا جا ئے گا         یو،کے: امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کی تعلیما ت قرآن و سنت کو سمجھنے میں مددگا ر ثا بت ہوتی ہیں، اہل سنت و الجما عت برطانیہ         پاکستانی کمیونٹی کوریانے تھیگو میں سجایا پاکستان کی 70ویں یوم آزادی پاکستان کا عظیم میلہ         سٹاک ہوم: پاکستان میلہ کمیٹی سویڈن کے زیر اہتمام سالانہ جشن آزادی میلہ،سموسے، پکوڑے، رس ملائی، بریانی، حلیم اور کشمیری چائے کی مسحور کن خوشبو اور لذت سے سویڈش و دیگر ممالک کے باشندے بھی جھوم اٹھے         پاکستانی اور برطانوی اداروں کے مابین تربیتی ورکشاپس، ہمارے نظام حکومت کو بہتر بنائیں گی، چیف جسٹس آزادکشمیر پاکستانی اداروں کا موازنہ برطانوی اداروں سے کرنا درست نہیں، ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چوھدری ابراہیم ضیاء چیف جسٹس چوھدری ابراہیم ضیاء کی اولڈہم مئیرز پارلر میں کمیونٹی سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو         برطانیہ میں نسلی تعصب، پاکستانی اداکارہ کو ہوٹل سے نکال دیا گیا         ملک عبدالوحید کے والد کا انتقال،پی ٹی آئی بولونیا کے رہنما پاکستان روانہ، مرحوم ملک عبدالقیوم کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی،         فرانس: پیرس ادبی فورم کے زیرِ اہتمام تیسرا عالمی مشاعرہ میں شریک شعرا، شاعرات و آرگنائزر خواتین         سپین میں مقیم مسیحی کمیونٹی نے شمع جلا کر بارسلونا میں ہونے والی دہشتگردی کا شکار ہونےوالی فیملی سے اظہار یکجہتی کیا         اٹلی: مسلم لیگ نون اٹلی کے صدر خالد محمود گوندل کی سربراہی میں پاکستان کے سترویں یومِ آزادی کے حوالے سے روریتو سٹی میں تقریب کا اہتمام کیا گیا         سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نیو جرسی (امریکہ )میںپاکستان کے 70واں جشن آزادی مارچ میں کمیونٹی کیساتھ شامل        

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ

خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق روشن ہیں جس سے قیامت تک آنے والے لوگ ہدایت و راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔آپ کا نام علی، لقب حیدر و مرتضٰی، کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے۔ آپ کے والد ابو طالب اور حضورﷺ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ دونوں بھائی بھائی ہیں۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔ ماں باپ دونوں طرف سے آپ ہاشمی ہیں۔ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ میں ہاشمی سرداروں کی تمام خصوصیات موجود اور چہرے سے عیاں تھیں۔ بدن دوہرا، قدمیانہ، چہرہ روشن و منور، داڑھی گھنی اور حلقہ دار، ناک بلند، رخساروں پر گوشت، غلافی اور بڑی آنکھیں، پیشانی کشادہ۔آپ معمولی لباس زیب تن فرماتے، آپ کا عبا اور عمامہ بھی سادہ تھے۔آپ کی گفتگو علم و حکمت اور دانائی سے بھرپور ہوتی۔ بچپن سے ہی ﷺکی آغوشِ محبت میں پرورش پائی۔ حضورﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی خاتونِ جنت سیدہ حضرت فاطمتہ الزہرارضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا اور ان ہی سے آپ کی اولاد ہوئی۔
خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ میں تلوار کے دھنی اور مسجد میں زاہدِ شب بیدار اور علم و عرفان کا سمندر تھے۔ مجاہد و جانباز ایسے تھے کہ نہ دنیا کو ترک کیا نہ آخرت سے کنارہ کشی فرمائی، ان سب کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے، نمک، کھجور، دودھ گوشت سے رغبت تھی، غلاموں کو آزاد کرتے، کھیتی کی دیکھ بھال کرتے، کنویں سے پانی نکالتے، اپنے دور خلافت میں بازاروں کا چکر لگا کر قیمتوں کی نگرانی فرماتے۔گداگری سے لوگوں کو روکتے ،جو لوگ راستہ بھول جاتے انہیں راستہ بتاتے اور بوجھ اٹھانے والوں کی مدد کرتے۔جب نماز کا وقت آتا تو آپ کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا اور چہرے پر زردی چھا جاتی، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ”اس امانت کی ادائیگی کا وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر اتارا تو وہ اس بوجھ کو اٹھانے سے عاجز ہو گئے“۔
سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، ہر معرکہ میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی شجاعت و بہادری اور فداکاری کا لوہا منوایا بدر و احد، خندق و حنین اور خیبر میں اپنی جرآت و بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ہجرت کی شب حضورﷺ کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے، اور آپ نے آخری وقت میں حضورﷺکی تیمارداری کے فرائض سرانجام دیئے۔ آپ ”عشرہ مبشرہ“ جیسے خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں بھی شامل ہیں جن کو حضورﷺنے دنیا میں ہی جنت کی بشارت و خوشخبری دی اور خلافتِ راشدہ رضی اللہ عنہ کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے، ، 9ھ میں جب حضورﷺ نے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ”امیر حج“ بنا کر روانہ کیا اور ان کی روانگی کے بعد سورہ برآت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ پر حضورﷺ نے سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو مامور کیا۔حضورﷺنے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے کو محرومی کا سبب قرار دیا۔ آپ بہت زیادہ عبادت گزار تھے، امام حاکم رضی اللہ عنہ نے زبیر بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے کسی ہاشمی کو نہیں دیکھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ عبادت گزار ہو۔ اْمّ المئومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت زیادہ روزہ دار اور عبادت گزار تھے۔ آپ بہت زیادہ سخاوت کرنے والے تھے کوئی سائل و حاجت مند آپ کے در سے خالی نہ جاتا تھا۔آپ ”بیعتِ رضوان“ میں شریک ہوئے اور ”اصحابْ الشجرہ“ کی جماعت میں شامل ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں راضی ہونے اور جنت کی بشارت و خوشخبری دی، حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے جنگ خیبر کے دن فرمایا کہ کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دونگا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا، وہ شخص اللہ اور اس کے رسولﷺسے محبت رکھتا ہو گا پھر جب صبح ہوئی تو لوگ حضورﷺ کے پاس گئے، سب لوگ اس بات کی امید (اور خواہش) رکھتے تھے کہ جھنڈا ان کو دیا جائے مگر آپﷺ نے پوچھا کہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ان کی آنکھیں آشوب کی ہوئی ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ ان کو بلواؤ وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) لائے گئے، حضورﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ اچھے ہو گئے گویا کہ ان کی آنکھوں میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں، پھر آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا (صحیح بخاری و مسلم)

Related posts