وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا نیا روپ

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا نیا روپ

محسن گورایہ
صوبہ پنجاب کی آبادی جس تیزی کے ساتھ دیہی سے شہری علاقوں کی طرف منتقل ہورہی ہے اس سے زیادہ تیزی سے شہری اور دیہی علاقوں میں مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ نوجوان نسل کی آبائی پیشے کھیتی باڑی، لائیو سٹاک اور پولٹری فارمنگ سے دلچسپی کم ہونے سے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بھی کم ہورہے ہیں۔ شہروں میں آباد ی کے دباؤ سے وسائل کی قلت کے ساتھ سہولیات کی فراہمی میں بھی تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔پچھلے دور حکومت میں پنجاب کی ترقی کا محور لاہور یا چند ایک دوسرے بڑے شہر تھےجسکی وجہ سے پنجاب کا اکثریتی علاقہ وہ ترقی نہ پا سکا جس کی اسے ضرورت تھی۔موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا تعلق چونکہ دیہی علاقہ سے ہے اس لئے وہ ان مسائل کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں اور ان کے حل کیلئے بھی پہلے دن سے ہی کوششوں میں مصروف ہیں۔عثمان بزدار وزیر اعلیٰ بنے تو حکومتی تجربہ نہ ہونے کے طعنے نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا اور اسے انکی کمزوری ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی،جو انصاف نہیں تھا اسی طرح جس طرح ہم نے لاہور کے علاوہ باقی پنجاب کے ساتھ انصاف نہ کیا ۔ہمارے ناقد عثمان بزدار کا مقابلہ ان وزرائے اعلیٰ کے ساتھ نہ کریں جو تیس پینتیس سال کا تجربہ رکھتے تھے۔مجھے لگتا ہے کہ عثمان بزدار اب وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہے جو حلف اٹھانے کے فوری بعد تھےاب وہ ایک تبدیل شدہ اور متحرک وزیر اعلیٰ کے روپ میں ڈھل چکے ہیں۔پچھلے ایک دو ماہ سے انکی کارکردگی سر چڑ کر بول رہی ہے۔ایوان وزیر اعلیٰ کے کچھ افسروںسے چند روز پہلے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پنجاب کے متعلق جو اعدادوشمار دیے وہ حوصلہ افزا ہیں۔ وزیر اعلیٰ بزدار اپنے اقدامات سے ایک بدلے ہوئے وزیر اعلیٰ لگ رہے ہیں۔

سرکاری سطح پر جاری سکیموں کی ماضی میں حالت زار کو دیکھتے ہوئے عثمان بزدار نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا عنوان ’’قلیل مدت،اعلیٰ کارکردگی اور جدت‘‘ ہے۔ یہ حکمت عملی جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ جس کے تحت ہر قسم کے منصوبوں میں وقت کو بہت اہمیت دی جائے گی اور ہر منصوبہ مقررہ مدت سے قبل قلیل ترین مدت میں مکمل ہوگا، منصوبوں کی تکمیل میںپیشہ ور افراد کی اعلیٰ

کارکردگی اور مہارت کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ منصوبوں کی تیاری تکمیل کے لئے ماہرین کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اور ان کو کارکردگی کے مطابق مشاہدہ اور خصوصی الاؤنس بھی دیئے جائیں گے۔ منصوبوں میں جدت کو یقینی بنا کر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ

کرنے کیلئے ’’جدت‘‘ کا سلوگن اپنایا گیا ہے، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ زندگی کے ہر شعبہ میں جدت کی ضرورت بہت زیادہ ہے، جدیدیت کو اپنائے بغیر کوئی منصوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ پوری دنیا نے جدت اختیار کرکے ترقی کے زینے طے کیے ہیں، ہمیں اس حکمت عملی کو بہت پہلے اپنا لینا چاہیے تھا مگر ’’ دیر آئید درست آئید‘‘ کے مصداق اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔

سردار عثمان بزدار اس نئی حکمت عملی کے تحت اپنے مختصر دور حکومت میں تین اہم اقدامات بروئے کار لائے جن میں اہم ترین شفافیت ہے، اس مقصد کیلئے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا استعمال عام کردیاگیا ہے ، ترقیاتی منصوبے چھوٹے ہوں یا بڑے سب کو کمپیوٹر

پر منتقل کردیا گیا ہے، ٹھیکیدار ، تعمیراتی مشیر، متعلقہ محکمہ کے افسر اور عملہ ،منصوبہ کی تفصیل، ٹینڈر ، فنڈز کی مالیت بارے ہر تفصیل نیٹ سے حاصل کی جا سکے گی ۔ ان منصوبوں میں زراعت ، کمیونیکیشن اینڈ ورکس ، ہاؤسنگ ، شہری ترقی، صحت عامہ، آبپاشی ، لوکل گورنمنٹ، کمیونٹی ڈیویلپمنٹ ، مائنز اورمنرلز سمیت متعدد شعبے شامل ہیں، ان شعبوں میں خدمات انجام دینے والے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے پاس رجسٹرڈ گریڈ 17سے 20تک کے انجینئروں کو 45ہزار سے ایک لاکھ تک کا خصوصی الاؤنس دیا جائیگا،ا س سے انکی کارکردگی میں بہتری آئیگی، یہ الاؤنس بنیادی تنخواہ سے ڈیڑھ گنا زائد ہوگا۔

مختصر مدت میں اعلیٰ کارکردگی کی مثال اور جدت کو اپناکر سردار عثمان بزدار نے اچھا کام کیا ہے ، یہ حکمت عملی صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ دیہی علاقوں میں ’’نیا پاکستان، منزلیں آسان‘‘ پروگرام کے تحت 12سو کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر کا بھی منصوبہ ہے ، اس سکیم کے تحت زیادہ پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی جائیگی، منصوبہ کے پہلے فیز کیلئے 15ارب 40کروڑ کے فنڈز جاری کئے جاچکے ہیں ، وسائل کی بچت اور شفافیت کیلئے اس منصوبہ کی تمام تفصیل بھی نیٹ پر جاری کردی گئی ہے، ٹینڈر بھی نیٹ پر طلب کئے جائیں گے، علاوہ ازیں دیہی علاقوں کی رابطہ سڑکوں کا بھی ایک مکمل سروے نیٹ پر جاری کردیا گیاہے، جس کی مدد سے معلوم کیا جاسکے گا کہ کس سڑک کی مرمت ، کشادگی اور دوبارہ تعمیر کی ضرورت ہے۔

سردار عثمان بزدار کے اس اقدام کو کارنامہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ اب فائلوں کے قبرستان میں غوطے لگانے کے بجائے ایک بٹن دبا کر تمام تفصیل حاصل کی جاسکے گی، موقع پر جاکر سروے کرنے کی بجائے نیٹ سے تمام معلومات حاصل کی جاسکیں گی، جس سے نہ صرف قلیل مدت میں شفافیت کیساتھ منصوبے مکمل ہونگے .

دیہی علاقوں میں کاشتکاری کے علاوہ لائیو سٹاک اور پولٹری بھی اہم صنعتیں ہیں، سردار عثمان بزدار نے دیہی آبادی کو گھر کے قریب روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ان صنعتوں کی ترقی کیلئے بھی اہم اقدامات کئے ہیں، مویشیوں کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے ڈیری اور گوٹ فارمنگ پر پنجاب حکومت کی خصوصی توجہ مرکوز ہے، اس حوالے سے ایک گزارش ہے کہ اگر ماہی پروری ، ہرن اور شترمرغ فارمنگ پر توجہ دی جائے تو ہر ن اور شترمرغ کا گوشت برآمد کرکے کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے، جبکہ فش فارمنگ سے

مقامی ضروریات کے ساتھ برآمد کے مواقع بھی مل سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت مویشیوں، مچھلیوں، مرغیوں کی افزائش نسل اور بیماریوں سے علاج کے تین پروگرام شروع کئے ہیں، موبائل ویٹرنری ڈسپنسریز بھی قائم کی گئی ہیں، جو گاؤں گاؤں جاکر جانوروں کا معائنہ کرکے ان کا علاج کریں گی ، اگر دیہی سطح پر مچھلی ، مرغی اور مویشی صنعت کو فروغ دیدیاگیا تو دیہی علاقوں سے آبادی کی شہری علاقوں میں منتقلی روک کر بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے’’ قلیل مدت ، کارکردگی ، جدت ‘‘کا منصوبہ دیکر اپنے ناقدین کے منہ بند کردیئے ہیں اور انہیں بتادیا ہے کہ انہیں کام آتا ہے ، وہ صرف دیہی علاقوں کے نمائندہ نہیں ، شہری مسائل سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور انکےحل کا بھی ادراک رکھتے ہیں۔انہیں موقع تو دیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *