اہم خبریں

میرے کپتان کے ناکام دعوے

میرے کپتان کے ناکام دعوے

تحریر: افق مجاہد بلوچ

کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ آپ اپنی سیاسی پیدائش (1994)سے جو بڑی بڑی باتیں اور دعوے کرتے آرہے ہیں آپ ان تمام باتوں میں صرف 9 ماہ میں ہی بُری طرح ناکام ثابت ہوئے ساتھ یہ بھی ثابت ہوا کہ عوام کے ساتھ تبدیلی کے نام پر اس سے بڑا فریب نہ ہوا نا ہو سکتا ہے۔ الیکشن سے قبل آپ نے ہر سیاسی جماعت کے سربراہ پر شدید تنقید کرتے ہوئےعزت اُتاری اور خود کو بالاترسمجھا، کسی کے بُرے کام کو برا ضرور کہیں مگر پھر تہیہ کرلیں کہ تاعمر آپ وہی عمل از خود نہ کریں مگر آپ نے پورے ملک کے لوگوں کے غلط اعمال کی تو ہاہاکار مچا دی اور پھر حکومتی کُرسی پر جھولتے ہی وہی کام کرنے اور کروانے بھی شروع کر دئیے- آپ نے شریف برادران کی آف شور کمپنیوں کا معاملہ نکالا، (بہت اچھا کیا) پر آج آپ کی اپنی بھی آف شور کمپنیاں سرعام ہیں، آپ نے زرداری اور نواز کو سیاسی نہیں کاروباری شخصیات کہا (بہت صحیح کہا) پر آپ کے اپنے کاروبار بھی قوم کے سامنے آگئے، آپ نے مریم نواز اور بیگم کلثوم نواز کی اربوں کی جائیداد کا معاملہ نکالا (زبردست کام کیا) پر آپ کی اپنی ہمشیرہ (علیمہ خان) کی بھی کیا خوب جائیدادیں سامنے آئیں۔ بھئی واہ۔

آپ نےکہا کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے فرنٹ مین ہوا کرتے ہیں-(ٹھیک کہا)پر آپ نے بھی اپنی سیکنڈ لئیر لیڈر شپ کو اپنا فرنٹ مین بنا لیا- آپ نے فرمایا ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے بجٹ سے ترقیاتی کام نہیں کرواتے بلکہ بجٹ کے پیسے اپنے پارٹی فنڈ میں دیتے ہیں-درست- 10 ماہ میں آپ کے پاکستان بھر سے کس ممبر صوبائی و قومی اسمبلی نے کتنا کام کروا لیا؟ نہیں کروایا تو ماہانہ فنڈ کہاں گیا ؟ آپ نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ ضمیر فروشی کا کام ہے میں لعنت بھیجتا ہوں، پھر اپ نے ایک ایک آزاد ممبر کو کیسے کیسے اور کتنے کتنے میں خریدا یہ دنیا نے دیکھا ۔

غرضیکہ ایم کیو ایم کو روزِاول سے دہشت گرد، را فنڈڈ، قاتل، بھتہ خور اور ناجانے کیا کچھ جوشِ خطابت میں کہہ گئے، لیکن صرف اپنی حکومت بنانے کے لیے آپ چند نام نہاد مہاجر نیتاؤں کے سامنے خود ہی ڈھیر ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ تمام اداروں کےسربراہ ایم کیو ایم سے ڈرتےہیں اس لیے اپنا کام نہیں کر پاتےاور شہر بھر میں ایم کیو ایم کے یونٹ آفسز بدمعاشوں کے لئے چھپڑے کے مترادف ہیں۔ 23 اگست 2016 سے یونٹ آفسز پر تالے منہ چڑا رہے ہیں اور 18 اگست 2018 سے اس ملک کی لگام (بظاہر) آپکے دست مبارک میں ہے، کون سا ادارہ ٹھیک کر لیا پیارے بھائی ؟ آپ تو اُلٹا صوبائی اداروں کو پرائیویٹائزیشن کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

نواز شریف آئی ایم ایف کا دروازہ بجائے تو آپ کہتے تھے ” یہ مہنگائی کا بوجھ تم پہ ڈالنے لگا ہے میرے پاکستانیوں” اور آپ آئی ایم ایف سے قرض لیں تو “گھبرانا نہیں ہے” سابقہ حکومت دوست ممالک سے مدد لے تو “بھکاری کٹورا لے کر نکلا ہے” یہی کام آپ کریں تو “دوست ہی مشکل میں کام آتے ہیں‘‘۔ پہلے گیس بجلی پٹرول مہنگا ہوتا تھا تو آپ تمام تر اعدادوشمار لے کر کہاں سے آیا،کتنے میں آیا، کتنے میں گیا، کتنا بچایا، کتنا کمایا، کتنا چُرایا،سب بتاتے تھے ، پر 10 ماہ میں 5 بار پیٹرول کی قیمت بڑھاتے وقت کوئی تفصیل بتائی آپ نے عوام کو ؟

یہ کیسا دہرا معیار ہےصاحب ؟کون سا منصوبہ شروع کیا آپ نے؟ کہیں کوئی سنگ بنیاد رکھا ؟ کہاں کیا فلاحی کام ؟ کہاں رکھا غریب کا خیال ؟ بجٹ میں کیا ریلیف دیا آپ نے؟ کہاں ہے مطوسط طبقے کا الگ حصہ ؟ کون سا پیکیج دیا کم آمدن والے مزدوروں کو ؟ ہے کوئی اشیاء خورونوش میں ایک بھی چیز جس پر ایک دھیلا بھی کم کیا ہو آپ نے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آپ نےگردن دبا دی غریبوں کی، مار کے درھ دیا مزدوروں کو، اور اس ۹ ماہ پرانے طوفان نے آج روند کے رکھ دیا پاکستان کے 90فیصد عوام کو، اللہ اس ملک و قوم کا حافظ و ناصر رہے ۔ آمین

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *