آرزوئے سحر تحر یر: انشال راوؑ عنوان: رد زرد صحافت و حامد میر

آرزوئے سحر تحر یر: انشال راوؑ عنوان: رد زرد صحافت و حامد میر

صحافت کا شعبہ اپنے عروج پر ہے دور جدید میں نئی نئی اور زبردست تبدیلیوں سے آہنگ ہو چکا ہے اب پرنٹ میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا بھی عوام کی ترجمانی کررہا ہے صحافت کو ریاست کے ستون کا درجہ حاصل ہے صحافی معاشرے کی آنکھ کان زبان ہوتا ہے لیکن موجودہ دور میں صحافت کا میدان ایک دوسرے پر بازی لے جانے اور حصول دولت کا ذریعہ بن گیا ہے صحافت بطور جنگی ہتهیار کے بھی استعمال کیا جارہا ہے ماضی میں اخبارات کی طباعت کے لیے لیتھو پریس مستعمل تها جس کا رواج اب نایاب ہے لیتھو پریس میں زرد روشنائی مستعمل تھی مگر زرد صحافت کے لیے کوئی جگہ نہیں تهی آج زرد روشنائی کا استعمال تو نایاب ہے لیکن زرد صحافت عروج پر ہے اس پس منظر میں حامد میر کی جاری کمردہ ویڈیو سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں جو برسوں سے جاری ریاست و ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگینڈے کا ہی تسلسل ہےحامد میر کوئی عام آدمی نہیں ان کی زبان سے نکلی ہوئی بات ایک سند کا کام کرتی ہے جاری کردہ وڈیو میں حامد میر صاحب نے نہ صرف الزامات کا سہارا لیا بلکہ ملک وریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کو تقویت بخشنے کی کوشش کی ہے پہلا نشانہ صحافی شعبے کو بنایا کے میڈیا ان کا موقف عوام تک نہیں پہہنچائے گا ثانیاً ریاست پاکستان پر الزام لگایا کہ ادارے جھوٹے الزام میں گرفتاریاں کر رہے ہے انہیں بهی کرینگے ثلاثاً اپنے بیانیے کا دفاع کیا کہ وہ ملٹری اپریشن کے خلاف ہے مزید بنگلہ دیش پر بھارتی پروپیگنڈے کو درست قرار دیا جس پر وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے کام کرتے آرہے ہیں یقیناً مقصد عوام میں فوج مخالف جزبات پیدا کرنا ہیں کیونکہ اتنے عر صے بعد اچانک سے 2005 کے بعد مسلسل مشرقی پا کستان سے زبردستی کی ہمدردی جاگ جانا اور مسلسل افواج پا کستان کو نشانے پر رکھنا تو یہی بات ہو گیؑی جس پر شاعر نے کہا “کوئی معشوق ہے اس پررہؑ زنگاری میں” حامد میر صاحب اور کچھ دیگر افراد بیانیہ چلاتے آرہے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں ناانصافیاں ہویںمگر یہ کبهی نہیں بتایا کہ کیا ناانصافیاں ہوئیں۔ ناانصافی ایک مطلق لفظ ہیں اس سے مراد کچھ بهی لی جا سکتی ہےلہذا یہ ذکر کبهی نہیں کیا گیا کہ کیا ناانصافیاں ہوئیں جبکہ حقیقت کچھ یوں ہےکہ پاکستان کا دوسرا گورنر جنرل بنگالی تها دوسرا وزیراعظم بهی بنگالی تها اس کے علاوہ محمد علی لوگرہ حسین شہید سہر وردی نورالامین وزیراعظم رہے یہ سب بنگالی تهے کابینہ میں بنگالی اہم عہدوں پر فائز رہے حقائق کے برعکس یہ ڈھنگ رچانا کہ فوج نے بنگالیوں کو جائزہ نمائندگی نہیں دی دشمن بھارت کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈہ ہے جسے پاکستان میں زبردستی سرایت کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے میرصاحب اپنے والد کی روش پہ چلتے ہوئے متعدد بار جنرل نیازی کا مزاق اڑاتے نظر آئے کہ وہ گورنر کے سامنے روئے اور اسے بزدلی سے تعبیر کیا لیکن حقیقت کیا ہے خدا ہی جانتا ہے اگر عقلی بنیاد پہ دیکها جائے تو یہ رونا دشمن کی کامیاب سازش پہ بهی ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک بهائی دوسرے بھائی کا دشمن ہوگیا کیونکہ روئے تو حضرت علیؓ بهی تھے جب مسلمان لشکر آمنے سامنے آئے دوسری بات یہ کہ گورنر صاحب کا تو یہ حال تها کہ استعفی دیکر ریڈ کراس کیمپ میں پناہ لے چکے تهے جبکہ یہ سوال کبهی نہیں اٹهایا کہ بھٹو صاحب نے جنگ بندی کے لئے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت تاخیر سے کرکے نجانے دشمن کی آرزو کیوں پوری کی ملٹری آپریشن پہ تو اعتراز ہے مگر یہ دانستہ چھپا لیتے ہیں کہ آپریشن کی نوبت کیوں پیش آئی؟ اس ضمن میں صدیق سالک اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جیسور شہر میں باغیوں نے تمام غیربنگالیوں کو قتل کردیا، چٹاگانگ میں میجرضیاالرحمان جو انتہائی متعصب بنگالی تھا ایسٹ بنگال رجمنٹ کے باغیوں کی قیادت کرتے ہوے شہر کو غیربنگالیوں کے لیے مذبحہ خانہ بنادیا بارہ ہزار سے زائد افراد کو چٹاگانگ میں قتل کردیا آس پاس کے دیہاتوں کو انسانوں سمیت جلادیا گیا عوامی لیگ کے دفتروں میں غیربنگالیوں کو لیجاکر تشدد کرکے قتل کردیا جاتا سرنجوں کے زریعے جسم سے خون نچوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جاتے شیر خوار بچوں تک کو نہ بخشا گیا جودھے پور میں مکتی باہنی کے دہشتگردوں نے تمام غیربنگالیوں کو قتل کردیا پورے بنگال میں غیربنگالیوں کے لیے زمین تنگ کردی گئی انسانی لاشوں کی بہتات اتنی ہوگئی کہ مردہ خور جانور کھانے سے عاجز آگئے مقتولوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی تھی قتل و غارت روکنے کے لیے اور امن و امان بحال کرنے کے لیے جواباً پاک فوج کو آپریشن کرنا پڑا پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت بھارت نے جنگ شروع کردی اور وارث میر جیسے لوگ پاک فوج ہی کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہے جس خدمت کے عوض حسینہ واجد جیسی متعصب نے اسے ایوارڈ سے نوازا۔ باپ کے بعد بیٹا بھی اسی روش پہ قائم ہے بلوچستان کے بلوچوں کو اکسانے کے لیے بنگلہ دیش کی جھوٹی من گھڑت داستانیں سنا کر باغیانہ جذبات اور نفرتوں کو ہوا دینے کی کوشش کرتا رہا تو کبھی مسنگ پرسن کا سوانگ گھڑ کے پاکستان کی بدنامی اور عوام میں افواج پاکستان کے لیے نفرتوں کو ابھارنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ کبھی موصوف کو کسی ایک بھی مقتول مزدور کا دکھ نہیں جاگا جو ہزاروں کی تعداد میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہوے اس کے علاوہ PTM کے پروپیگنڈے پہ کوئی تشویش نہیں اور اگر ان کی نشاندہی و اصلاح کی کوشش کی گئی تو صاحب بنگلہ دیش کی مثالیں دے دے کر پشتونوں کو اکسانے کی کوشش کرتا رہا اس کے علاوہ موصوف حمودالرحمان کمیشن رپورٹ جاری کرنے کے لیے سرگرم تو رہا مگر سازشی پروپیگنڈہ کرنے کا موقع نصیب نہ ہوا مکتی باہنی میں انتہاپسند ہندووں کی شمولیت اور پاک فوج کے خلاف لڑنے کے مودی کے اعتراف جرم کے بعد سانحہ بنگلہ دیش کی سازش کے اصل محرکات سامنے آچکے ہیں مگر کسی ایک بھی زبردستی کے محب وطن کو جسارت نہ ہوئی کہ وہ اس سازش کو دنیا کے سامنے رکھیں اور اگر ان کے پروپیگنڈے کا جواب دے دے تو وہ سیاسی مداخلت کہی جاتی ہے ان سے پروپیگنڈے پہ جواب طلبی کرلی جائے تو ظلم ظلم کی رٹ اور اگر انہیں پروپیگنڈہ نہ کرنے دیا جائے تو صحافت پہ پابندی بتاتے ہیں اور کہتے ہیں انہوں نے کیا ہی کیا ہے؟ آج سے چودہ سو سال پہلے عبداللہ بن ابئی اور اس کے حواریوں نے کونسا اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی تھی بس پروپیگنڈہ اور سازش ہی تو کی تھی جس پر جماعت منافقین قرار پائے ورنہ مسلمان ہونے کے تو وہ بھی سب سے بڑھ کر دعویدار تھے جس طرح سیاہ سی و دانشوڑ حضرات ہیں ریاست کو ایسے ایک ایک فرد کا کڑا احتساب کرنا چاہئیے قوم کا ایک ایک فرد ایسے افراد کی وجہ سے جس ذہنی اذیت سے گزرا ہے اور جس حد تک متاثر ہوا ہے وہ ناقابل معافی و رحم جرم ہے
2 Attachments

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *