اہم خبریں

خواہشات اور عملی اقدامات تحریر: سلمان احمد قریشی

خواہشات اور عملی اقدامات            تحریر:  سلمان احمد قریشی

کپتان آئے گا تو اگلے ہی روز بیرون ملک پڑا 200ارب ڈالر پاکستان لائے گا،پاکستان پر قرضہ کتنا ہے 100ارب ڈالر، اگلے ہی دن 100ارب ڈالر باہر دنیا کے منہ پر دے مارے گا،اور باقی کے 100ارب آپ پر خرچ کرے گا۔ میرا کپتان آ گیا اور کپتان کو آئے ایک سال ہونے کو ہے۔ بیرونی قرضہ ختم تو کیاکم ہوتا بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ملک میں سیاسی تبدیلی آ گئی نیا پاکستان بن گیا۔کپتان نے سب کی فائلیں کھول لیں، سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف جیلوں میں ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم ایماندار ہیں، ایسی سیاسی قیادت پاکستان کو پہلے میسر نہیں آئی اب وزیر اعظم سائیکل پر نہ سہی سرکاری پروٹوکول کے ساتھ کاروں کے قافلے میں آفس میں نہیں آتے، 55 روپے فی کلو میٹر کے خرچہ پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے جاتے ہیں۔پاکستان کے نوجوانوں نے عمران خان کی صورت میں جو سہانے خواب دیکھے تھے وہ کب سچ ثابت ہوں گے اسکے بارے میں حکومتی اراکین بات نہیں کرتے۔گرفتاریوں سے آگے اب حکومتی اراکین پانچ ہزار افراد کی پھانسیوں کی خواہش رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی خواہشات اپنی جگہ، سوال نیت کا بھی نہیں،معاملہ صرف عملی اقدامات کا ہے۔حکومتی ترجمان سامنے آئیں اور ان عملی اقدامات سے قوم کو آگاہ کریں جواب تک حکومت نے عام آدمی کیلئے اٹھائے۔ کیا نیا پاکستان ایسا ہی ہو گا عام آدمی پریشان، مہنگائی کا طوفان، پی ٹی آئی بر سر اقتدار اور مسلم لیگ ن مزاحمت کی سیاست میں مصروف ۔ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے اے پی سی کا حصہ ہے۔ چئیر مین سینٹ کی تبدیلی اے پی سی کا پہلا امتحان ہے۔جوان سال چئیر مین بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز عوامی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ احتسابی نظام پر سنگین الزامات ہیں۔ احتساب عدالت کے جج کی مبینہ ویڈیو گزشتہ ہفتے سے موضوع بحث ہے۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ “نواز شریف بے گناہ ثابت ہو چکے ہیں، انہیں اب جیل میں رکھنا جرم ہے، یہ احتساب نہیں انتقام ہے، یہ جانتے ہوئے بھی نواز شریف سر جھکا کر جیل چلا گیا”۔
حکومت کا موقف ہے اس معاملے کو عدالت کو ہی دیکھنا چاہئے اور فیصلہ بھی عدالت ہی نے کرناہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق کے مطابق مسلم لیگ ن نے اپنے خلاف آنے والے ہر فیصلے پر ہمیشہ تنقید ہی کی ہے۔عوامی خدمت، تعمیر و ترقی،محرومیوں کا خاتمہ، علاقائی پسماندگی ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات، معیشت کی ڈولتی ہوئی کشتی کو کنارے لگانے کیلئے واضح پالیسی سامنے لانے کی بجائے حکومت اور اپوزیشن الزامات کی سیاست ہی میں اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔
نئے پاکستان میں خوشحالی کا آغاز کب ہوگا۔۔۔؟ عملی اقدامات کب اٹھائے جائیں گے جس کے ثمرات جلد عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں، عوامی خواہشات تو کچھ یوں تھیں اور عملی اقدامات اس سے یکسر مختلف ہیں۔نہیں چھوڑوں گا، سب کو جیلوں میں ڈال دونگا، اپوزیشن چور ڈاکو ہے اور نواز شریف بے گناہ ہے، نواز شریف ایک نشہ ہے، نواز شریف ایک نظریہ ہے۔وزیر اعظم ایماندار ہے، نواز شریف بے گناہ سزا بھگت رہے ہیں یہ ہیں وہ بیانات جو شب و روز سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔
عمران خان کی 22سالہ جدو جہد کا نتیجہ تبدیلی سرکار، اور تبدیلی سرکار کا ایک سال نتیجہ معیشت کا بیڑا غرق، ڈالر کی اونچی اڑان، روپیہ بے قدر، بے روزگاری، مہنگائی، ترقی کا پہیہ رک گیا،سب سے بڑھ کر سیاست میں بد تہذیبی کو عروج۔ اپوزیشن چور ہے مان لیا، بھلے عدالت میں ثابت ہو یا نہ ہو۔ فیصلہ پانامہ کا ہو یا اقامہ کا نواز شریف جیل میں ہیں، شہباز شریف گرفتار ہوئے، حمزہ شہباز۔ خواجہ سعد رفیق،آصف علی زرداری، فریال تالپور زیر حراست ہیں۔ سابق وزراء اعظم، راجہ پرویز اشرف، سید یوسف رضا گیلانی، شاہد خاقان عباسی گرفتار ہونے والے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چئیر مین تو کہتے ہیں سب کو گرفتار کر لو مگر غریب کو دو وقت کی روٹی کھانے کا حق تو دے دو۔ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی بجائے اپوزیشن پر قابو پانے کی جلدی میں نظر آتی ہے۔ تبدیلی سرکار چئیر مین بلاول بھٹو کی بات کو اہمیت نہ دے ان خواہشات کا تو احترام کرے جو تبدیلی کا باعث بنیں۔ خواہشات کے سہارے الیکشن جیتا جا سکتا ہے زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔اس دنیا میں زندگی گزارنا آسان نہیں خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں منفی اور مثبت قوتوں کا مقابلہ جاری ہو۔ بے انصافی، افلاس اور دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو جائے تو تبدیلی قائم نہیں رہ سکتی۔ غربت انقلاب کو دستک دیتی ہے۔ تبدیلی سرکار خواہشات سے آگے عملی اقدامات کی طرف نہ بڑھی تو حالات سنگین ہوتے جائیں گے۔ اپوزیشن تو حکومت کو گرانا نہیں چاہتی۔ اب اگر عمران خا ن حکومت کرنا نہیں چاہتے استعفیٰ کیوں نہیں دے دیتے۔معروف صحافی کا کہنا ہے عمران خان خود اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ انہوں نے مستعفی ہونے کا ارادہ کر لیا تھا۔ جہانگیر ترین کے سمجھانے پر وہ دوبارہ ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔عمران خان نے نوکریاں دینے اور گھر بنانے کے بڑے بڑے وعدے کیے جو وہ پورے نہیں کر سکے لیکن وہ جرم کا خاتمہ ضرور کر سکتے ہیں۔شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے عمران خان کے متبادل کے طور پر پی ٹی آئی میں زیر غور رہے کیا سیاسی تبدیلی ہی پی ٹی آئی کی اصل تبدیلی ہے۔ میں ذاتی طور پر ایک مثبت آدمی ہوں یہ خود نمائی نہیں رب کا شکر ادا کرتا ہوں کہ صحافت اور سیاست کا ادنیٰ طالبعلم ہوں۔حالات کو اپنی نظر سے دیکھتا ہوں اور جو درست سمجھتا ہوں بیان کر دیتا ہوں۔موجودہ سیاسی حالات تسلی بخش نہیں اور مستقبل بھی تلاطم خیز نظر آتا ہے۔پی ٹی آئی کے سیاست میں آنے سے بد تہذیبی، ریایہ کاری، خود نمائی، خو د عیاں، اوچھا پن، کم ظرفی، تکبر، غرور ہلکے پھلکے الفاظ میں لکھوں تو موضوع لفظ SELF DISPLAYعام ہوا۔سیاست ہی نہیں ہر شعبہ زندگی میں ایسے کردار سب سے لڑتے نظر آتے ہیں اور آگے نکلنے کی خواہش میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ معاشرے کا آئینہ صحافی بھی تصویروں میں خود کو بڑا اور کامیاب محسوس کرتا نظر آتا ہے، معاشرے میں مسائل کو اجاگر کرنے کا ذمہ دار خود نمائی کی خواہش کا شکار ہے۔خوشامد، حسد اور منفی رویہ معاشرے کو بربادی کی طرف لے جا رہا ہے۔عام آدمی کی زندگی کیسے بدلے گی۔جبکہ خوشامد انسان کو بت پرستی سے بھی آگے خود پرستی کی لعنت کی طرف دھگیل دیتی ہے۔خوشامد کے حوالہ سے میرے عزیز دوست کالم نویس مظہر رشید نے خوبصورت کالم لکھا، میں بھی ایسے کرداروں سے آشنا ہوں،منفی لوگوں کے حسد کا شکار ہوں مگر حق بات کہنے سے نہیں چوکتا، نتائج کچھ بھی ہوں بہتری کیلئے خواہشات نہیں عملی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں، ہمارے سیاسی مسائل صرف خواہشات سے حل نہیں ہوں گے اس کے لئے تمام سیاسی طاقتوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ سیاست عام آدمی کیلئے کرنی ہے یا سیاست کا مقصد حصول اقتدار ہے۔ اس کے بعد یہ عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے بصورت دیگر ہمارے مسئلے کم ہونے والے نہیں بھلے نواز شریف جیل میں ہو ں یا آزاد ہو جائیں، وزیر اعظم عمران خان ہوں یا شاہ محمود قریشی اس کا نام تبدیلی نہیں، تبدیلی تب آئے گی جب عام آدمی کے حالات بدلیں گے۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *