اہم خبریں

اے آر طارق بے تکی باتیں

اے آر طارق بے تکی باتیں

artariq2018@gmail.com
03074450515
ٹیکسوں کے خلاف سراپا احتجاج تاجر ،صنعتکار ،فائدہ کس کا۔۔۔ ؟
ملک ِعزیز پاکستان میں آج کل ہر طرف حکومت کی جانب سے عاید بھاری ٹیکسزکا ذکر بڑے زور وشور سے جاری ہے، جس پر ہر طبقہ مضطرب اور پریشان دکھائی دیتا ہے،اِن ٹیکسوں کی بھرمار کو غریب دشمنی سے تعبیر کرتا ہے،اِس کے نتیجے میں عوام پریشان ،پراگندہ حال پھر رہے ہیں،اِن کا کوئی پرسانِ حال نہیں،تاجر،صنعتکاربھی سراپا احتجاج ہیں،وہ اپنا رُونا رو رہے ہیں،حکومت کی جانب سے اِن عاید بھاری ٹیکسوں کو ”ظالمانہ اقدام“قرار دے رہے ہیں،اِسے ملکی معیشت کے لیے مضراور تباہ کن خیال کر رہے ہیں،ملکی کاروبار کی تباہی کا پیش خیمہ بتا رہے ہیں،اِسے تاجر ،صنعتکار دشمنی قرار دے رہے ہیں،حکومت پاکستان سے اِن بھاری ٹیکسوں کی واپسی کے لیے زور دے رہے ہیں اور سترہ فیصد ٹیکس دینے کی طرف نہیں آرہے ،اِن ٹیکسوں کو ادا کرنا جھوٹ ہوجائے ،کے لیے عام دکانداروںکو بھی ساتھ ملائے ملکی سطح پرشٹر ڈاﺅن، ہڑتالوں کی جانب بڑھے ہوئے ہیں، کچھ صنعتکار اپنی فیکٹریوں کو احتجاجا بند کیے ہوئے ہیں اور اکثر تالا ڈال دینے کی دھمکیوں پر اُترے ہوئے ہیں،حکومت کو بلیک میل کرنے کی سوچ لیے، اپنے چلے ہوئے کام کو بند کرکے ،اپنے دیرپافائدے کے لیے وقتی طور پرمحض چند دن کے لیے فیکٹریوںیونٹوں کو تالا لگا کر کچھ روز کے لیے اپنے ورکرز کو کام سے چھٹی دے کر”کام کہاں سے دیں،کام دیں کہ ٹیکس دیں“کابتا کر
غیر محسوس انداز اپنا کر ان پڑھ ،زیادہ پڑھے لکھے نہ، ورکروں کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت” برین واشنگ “کرکے اُن کے کند اور بند ذہنوں میں اپنا سبق پوری طرح رٹاکر ،کام نہیں ہے کا بتاکر،اپنی آواز میں آواز ملانے والا بناکر ”حکومت مخالف ٹریننگ “مکمل کرواکر،ایسا ورکرز بناکر ،جو حکومتی معاشی سخت پالیسیوں پرتنقید اور حکومت کو برا بھلا کہے ،عمران کو سر عام’ ’ننگی گالیاں“دے ،عمران کو ملک کے لیے” برا شگون“قرار دے ۔ملک،معیشت،غریب کے لیے زہر قاتل قرار دے،اِس طرح کی بری باتوں کا زہر اُس حالات اور جبر کے مارے غریب ،بد حال ورکرز کے ذہن ودل میں اتار کر،ایک مکمل ا”حتجاجی روبوٹ“میں بدل کر ،جو اِن تاجروں،صنعتکاروں، دکانداروں کے ریموٹ کے اشارے سے چلے،کے قالب میں ڈھال کر، اپنے تاجرانہ،صنعتکارانہ مفادات کے لیے گیس کے بھرے ہوئے گیسی غبارے کی طرح ،جودیکھتے ہی دیکھتے فضاءمیں معلق ہوجاتا کی طرح سڑکوں پرمزدوروں،ورکروں،سیل مینوں کی صورت میں ”دھرنا ہوگا،مرنا ہوگا“”ظالمانہ بجٹ نامنظور“سترہ فیصد ٹیکس نامنظور“”شناختی کارڈ کی شرط ختم کرو“جیسے نعروں کے پہلے سے بنے ،سنورے ،سجے سجائے بینرز، پلے کارڈ،پمفلٹ،اسٹیکرز پکڑواکر ،حکومت مخالف احتجاج کے لیے اُتاردیا جاتا،جس میں حکومت مخالف سیاسی جماعتیں اور افراد اہم کردار ادا کرتے،یہ جو آپ کو سڑکوں پر جلاﺅ گھیراﺅ اور ٹائروں کو لگی آگ نظر آتی ہے،یہ انہی بااثر مقامی و سیاسی شخصیات ومل مالکان کا کام یا شرارت ہوتی،جو اپنے تن بدن میں لگی آگ کو غریب مزدور کے گھروں میں لگانا چاہتے ہیں،اپنے قلوب وارواح سے حکومت مخالف اُٹھنے والے دھویں سے عام ورکرز کا بھی منہ کالا کرنے کے خواہشمند ہوتے،اپنی لگی ہوئی ہوس کی آگ کے تنورمیں غریب محنت کش مزدورکو بھی جھونکنے کی پوری کوششوں میں ہوتے ہیں،اپنے محض صرف اپنے مفادات اور سرمایہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت مخالف سرگرمیوں کے لیے اِس” مقروض“ دیس کے ”مفلوک الحال“ غریب ورکرز کو استعمال میں لاتے اور اُن کو یہ بات باور کروا کر کہ ”ہڑتال کی کامیابی میں ہی آپ کا روزگار ہے ،جتنی جلدی ہڑتال کامیاب کروگے،اتنی جلدی ہی آپ کا روزگار لگے گا“کوسڑکوںپرللچاتی تیز دھوپ میںچند منٹ کی اپنی دل لبھا دینے والی، مزدوروںکے تحفظ پر مبنی تقریر کرکے ،سنا کر،اِن کوتن تنہاءچھوڑکر اپنا منہ پسینہ صاف کیے اپنے آفس جاکرAC روم میں بیٹھ جاتے، ”دھرنا ہوگا ،مرنا ہوگا“کا گیت اور اراگ آلاپ کر بیچارے مزدوروں کو ”خوشحالی کا دشمن کون“ ”خوشحالی کیسے آئے گی“ کا بھاشن دے کر سڑکوں پر لاکر سڑکوں کی دھول اور خاک اپنے سروں پرسارا دن ڈالنے کے لیے شدید للچاتی دھوپ اور حبس کے موسم میں انتہائی بے رحمانہ طریقے سے حکومت و اُس کے اداروں سے ٹکرانے کے لیے بیچ سڑک خود یا اپنے مینجرز کے ذریعے چھوڑ جاتے اورایک آدھ احتجاجی فوٹو سیشن کے بعد خوداپنی کار پر اپنے دفتر یا گھر جاکر اپنی کامیابی کے شادمیانے بجاتے ،دوران احتجاج اپنی تقریر کے ایک ایک لفظ پُر فریب کو چباچبا کر اور دہرا دہرا کر کے اپنے سامنے مخاطب شخص کو سُنااور بتا کر اپنی اِس کارروائی پر پس ِپردہ ہنستے اور قہقے لگاتے نظر آتے،اِس ہڑتال کے دن کواپنی کامیابی گردانتے،اِس موقع پر لیے گئے ”حتجاجی فوٹو سیشن “کوبطورِاعزازی شیلڈاپنے ذہن ودل کے اوراپنی دفتری لائبریریوںکے INBOX میںایک بہت بڑے کارنامے کے طور پرشجاعت و بہادری کے ایک تمغے کی مانند سجاتے یا محفوظ کرلیتے اور اپنی اِس کارروائی پر پھولے نہیں سماتے،پھر بطورِکریڈٹ اِسے اپنے دوستوں اور حکومت مخالف گروپ میںایک عنایت کی صورت میںبھرپور کیش کرواتے اور بے حدو حساب شاباش اورتھپکی کی سی شکل میں انعام بٹورتے، اِس ہڑتال کو ملک کا BLACK DAYقرار دے کر اپنے ”روشن دل و دماغ“کو خوامخواہ کی روشنی اور حرارت بخشتے اور اپنے تنِ مردہ میںپھر سے ایک سیاسی جان محسوس کرتے،ملک میں ہڑتال کی وجہ سے ’ایک دن کے ’جزوی لاک ڈاﺅن“پر حکومت وقت کو پھبتیاںکستے، ملک لاک ڈاﺅن کے طعنے مارتے،خود کو اور مزدور کو دھوکا دیتے، بلکہ انتہائی جانے انجانے میںاپنا بھی سب کچھ جھونک کر رکھ دیتے ہیں،خود تو نقصان اُٹھاتے ہی ہیں،ملک کو بھی خسارے میں لے جاتے،اپنے ذاتی طمع ، حرص ولالچ کے لیے حکومت ِوقت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے،وہیں ملک کی بنیادیں بھی کھوکھلی کرنے کا باعث بنتے،مستحکم اور توانا پاکستان کے بلندوبانگ نعرے مارنے والے یہ بیرونی و اندرونی فریبی وٹیکس چور تاجر،صنعتکار ،جب اپنے مفادات کو ڈز لگتی توملک کے عزت ووقار اور اُس کی معیشت تک سے کھیل جاتے،اِس ملک کی حکومت و اداروں کے خلاف ایسے سراپا احتجاج ہوجاتے کہ ملک وقوم ڈوب جائے ،تک کی بھی پرواہ نہیں کرتے،یہ پیٹ بھرے چھوٹے بڑے تاجر، صنعت کار، بڑے ظالم ،سیاہ کار ،دھوکے باز ،جب اپنے پر پڑتی اور بات ٹیکس دینے پر آتی تو ”معیشت اور کاروبار“خطرے“میں کا کہہ کر ملک پاکستان کے کاز مفاد تک سے کھیل جاتے ،ملک تو ایک طرف ٹھہرا ، اِن کی روزگار کی ”کشتی “اور”گاڑی “کو دھکا لگانے والے مزدوروں ،ورکروں تک کی حسرتوں،خواہشوں کا خون کیے ،اُن کے گھروں تک کے چولہے بجھانے پر آجاتے،صرف اور صرف اپنے مفادات اور سرمایہ کے تحفظ کے لیے ،اپنے نفع میں کمی کے پیش ِنظراِس دیس کی حکومت اور اِ س کا فخر مزدور تک سے گیم کر جاتے ،کے اچھے احساسات و خیالات تک سے کھیل جاتے،وجہ کوئی بھی نہیں،صرف اور صرف اپنے ذاتی کاروباری مفادات،اور ٹیکس سے بچنے کی ایک کوشش،جو یہ کم کم ہی دیتے،اپنے کاروبار کی وسعتوں اور بلندیوں کے مطابق دینا پڑنے پر اکثر بیمار پڑجاتے،ورنہ اِس دیس میں غریب کی فکر کِسے،حکومت تو ویسے ہی مزدور کے حقوق و فرائض کے تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام و نامراد ٹھہری ہے،جبکہ یہ تاجر ،صنعتکار بھی صرف ورکرز اور مزدورکو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے، بھی مہینہ ختم ہونے پر صرف چند ٹکے پکڑواکر ،(وہ بھی پورے نہیں،کانٹ چھانٹ کر،اکثر اوور ٹائم کھاکر)ایسا سمجھتے کہ جیسے مزدور پر کوئی بہت بڑا احسان کردیا ہو،اکثریونٹوں میں تو بجٹ کے بعد حکومتی کردہ اعلانات کے بعدتنخواہ17500 دینے کا آغاز ہوچکا اور کہیں اب بھی اور آگے جاکر بھی14500 یا15500 روپے نتخواہ دینے کا ہی ارادہ اور خیال۔لاہور کے علاقے کاہنہ میں گجومتہ روہی کنارے نادر چوک اوراللہ ہو پل کے آس پاس قائم چھوٹے چھوٹے مختلف کاموں کے یونٹ اب بھی تنخواہ17500 دینے کی بجائے14500یا 15000دے کرحکومتی کردہ اعلانات و دعوﺅں کا کھلم کھلا مذاق ا’ڑا رہے ہیں،یہ تاجر ،صنعتکار اتنے بے شرم ہیں کہ کم از کم تنخواہ 17500کی حکومتی اعلانات کی بازگشت اِن کے کانوں تک پہنچتی ضرورمگر عملدرآمد کی طرف نہیں آتے،غریب مزدور کا استحصال مسلسل استحصال ہی اِن کی تاجرانہ سوچ ٹھہری،صرف اور صرف اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے،غریب مزدور کا حقیقی حق دینے کی طرف نہیں آرتے،اپنے حقوق و فرائض کے لیے حکومتی سطح پر طبل جنگ بجادیتے، مگر مختلف فیکٹریوں یونٹوںمیں کام کرنے والے افراد کے حقوق کی ادائیگی اور اُس میں کی جانے والی” نقب زنی“کی طرف ایک آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتے،اکثر اِس حوالے سے” گہنگار ،سیاہ کار“ کا روپ دھارے ہوئے،پاکستان میں اپنے کام کے تحفظ کے لیے پیسے کے بل بوتے پر” شریف اور ایماندار“ کالبادہ اوڑھے ،کا روپ دھارے ہوئے ہیں،خود تو ملک،اُس کی صلاحتیں، اُس کے وسائل کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں،مگر غریب مزدور کو ملنے والی اُس کی خون پسینے کی کمائی ،اُس کا حق ،اُس کی مزدوری،ایک مہینے کی تنخواہ بھی ڈھنگ سے ادا نہیں کر پاتے،اکثر اُس کو ادا کرتے غریب مار ہی کرتے،کم ہی بناتے،اورزیادہ تر اِس کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے ہی کام لیتے ،تاخیری حربے استعمال کرتے۔لاہور کے علاقے یوحنا آباد کے آس پاس قائم فیکٹریوں میں تو مزدور کے اکثر ایک ہفتہ تک کے پیسے بھی دینے سے اکثر انکار کردیتے ،اکثر ادائیگیوں سے ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیاجاتا،خود کھا جاتے،اکثر نہیں دیتے،اِس وجہ سے لڑائی جھگڑے ہوتے، جی ایم ،پروڈیکشن مینجر تک مار کھاتے،ایسے میںجب لڑائی جھگڑا زیادہ ہوجائے توورکرز کی پکڑ دھکڑ کے لیے پولیس والوں کی مدد لیتے،اور اُن کا استعمال کرتے،غریب و لاچار مزدوروں پر ظلم کی صورت میں مزید ستم ڈھاتے،پولیس والوں کے وارے نیارے کردیتے،مزدور کا مال دبا لیتے مگر پولیس والوں کو خوب مال لگاتے،اکثر پولیس افسران تو فیکٹری ایریا میں اپنی تعیناتی کے لیے سفارشیں تک کرواتے،وجہ مال چوکھا، دل بے رحم۔مزدوروں کے ساتھ زیادتیوں کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ،پرانا ہے، لاہور اور اُس کے گردو نواح میں قائم یونٹوں میں چند ایک کو چھوڑ کر ابھی بھی مزدور کو تنخواہ 14500 یا15000 ہی بڑھے دھڑلے کے ساتھ دی جارہی ہے ،مزدور کم تنخواہ پر بولتا اِس لیے نہیں کہ اُسے اپنے گھر کی پتلی صورتحال ہی اٹھنے نہیں دیتی، مجور کیے رکھتی،اکثر ایسی فیکٹریوںیونٹوں میں مزدور کم کم ہی ٹکتا،جو دن وہ وہاں لگاتا،اُس کے ساتھ ٹھگی ہوگئی والی بات ہوتی۔
کیا حکومت مزدور کوکم ا زکم 17500 کی حقیرانہ تنخواہ کی چھوٹے بڑے یونٹوں میں فراہمی یقینی بنائے گی؟یہ ایک سوال ہے،جس کا جواب ہر مزدور چاہتااور یہ کہ کیا اِس حکومت میںبھی مزدور کا تحفظ ہوگا کہ بس یونہی لارہ ہی دیا جاتا رہے گا؟یہ چھبتا ہوا سوال بھی ذہنوں میں ہر وقت گھومتا رہتا اور یہ کہ کیا مزدور کے حالات بھی کبھی سنورے گے کہ بس اُسے یوم ِمزدوراں منانے تک ہی محدود رکھا جائے گا؟یہ سوال بھی اپنی جگہ بڑا اہم ہے ۔حکومت وقت کواِس ساری صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے،ورنہ حکومتی ناکامی نوشتہ دیوار ہوگی،پھراِسے چاکر بھی کسی کامیابی میں بدلنا کسی کے بھی ا ختیار میں نہ ہوگا،ابھی سے ہی اِ س پر کام کرنے کی ضرورت،اِسی میں ہی حکومت کی بہتری و بقاءہے،بس اِس محاذ پر ڈٹے رہنے اور سخت محنت طلب کام کی حقیقی ضرورت ،جس کا فقدان نظر آتا ہے،ورنہ حکومت ٹھیک جارہی ہے۔ #
´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´´

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *