اہم خبریں

چکور خوش ہے !

چکور خوش ہے !

’مرد تے گھوڑے دا کوئی ملک نئیں ہندا پتر، جا، اللہ نبیﷺ وارث‘۔ چاچے صاحبے کی بات وزن تھا، دماغ فٹا فٹ مان گیا پر دل کہہ رہا تھا دفع کر۔
بائیس سال پردیس کاٹنے کے بعد آج اسے احساس ہو رہاتھا کہ کاش وہ دماغ کے بہکاوے میں نہ آتا اور دل کی سنتا ۔

اکرم کی تنخواہ تھوڑی اور مکان چھوٹا تھا پھر بھی کام کے بعد جلد از جلد گھر پہنچنے اور پھر بلاوجہ باہر نہ نکلنا اسے بہت اچھا لگتا تھا، حد سے زیادہ پیار کرنے والے تین بچے اور ضرورت سے زیادہ خیال رکھنے والی بیوی نے دنیا ہی میں اسے جنت کی جھلک دکھا دی تھی۔
اکرم سے اپنی چھوٹی سی دنیا کی طمانیت اور مسرت سنبھالی نہ جاتی تو وہ ترنگ میں آکر کبھی کبھی بوٹا ٹی سٹال پر ملائی والی دودھ پتی پینے چلا جاتا جو اس کی کشادہ گلی کے اختتام پر بر لبِ سڑک تھا۔ ادھیڑ عمر چاچے صاحبے سے اس کی ملاقات کئی سال پہلے اسی جگہ ہوئی تھی جو آہستہ آہستہ دوستی میں بدل گئی۔

’آستین کے سانپ ہیں چور، ڈاکو لٹیرے۔ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں ، بال بچے باہر ، جائیدادیں باہر، یہاں تو گھومنے پھرنے اور حکمرانی کرنے آتے ہیں۔ ملک کو مقروض کر کے بھی ان کی ہوس ختم نہیں ہوئی، وکٹری کانشان بنا کر کہتے ہیں ہم نے لوٹا ہے تو ثابت کر کے دکھاؤ۔ یہ ملک ایسے ہی چلتا آیا ہے یسے ہی چلتا رہے گا، کچھ کرنا ہے، کچھ بننا ہے تو یہاں سے نکل جاؤ۔‘ چاچا صاحبہ جب بھی ملتا اسی طرح کی باتیں کرتا اور اکرم ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال کر گھر آجاتا۔

اکرم کے تحت الشعور سے چاچے صاحبے کی باتیں ان دنوں شعور میں آکر ہلچل مچانے لگیں جب بچوں نے سکول جانا شروع کیا اور ان کی فیسیں لیٹ ہونے لگیں۔ گرمی سردی اور بارشوں کی آفتوں سے مکان بھی تنگ پڑنے لگا۔ ’اس ملک کا توپیدا ہونے والابچہ بھی ڈیڈھ لاکھ کا مقروض ہے اکرم یار‘ یہ چاچے صاحبے کا وہ آخری جملہ تھا جو اکرم کو لڑگیا اور اس نے دیس چھوڑ کر سے پر دیس چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔

آج بائیس سال بعد بچے جوان ہو چکے تھے ، دیس سے دور ، دین سے دور ، اب وہ کسی اور کے شہری تھے، ماں باپ کا وطن انھین پسند نہ تھا، وہ کبھی آتے بھی تو مہمان بن کر، اس طرح رشتوں کا انھیں تو کچھ نہ علم ہو گیا تھا لیکن آگے ان کے بچوں میں یہ احساس باقی رہ پائے گا یا نہیں اس کا انھیں خود پتہ نہیں تھا۔ پردیس نے اکرم سے اس کا گھر ، گلی ، محلہ ، دوست رشتہ دار حتی کہ اس کے بچے تک چھین لئے تھے۔

اکرم اتنے سالوں بعد آج چاچے صاحبے سے اپنے محلے صرف یہ پوچھنے ہی نہیں آیا تھا کہ کیا غربت اور مہنگائی کے ڈر کا متبادل صرف جلاوطنی ہے، بلکہ یہ بھی بتانے آیا تھا کہ زرا سے سکھ کی قیمت اپنے پیا روں سے ہمیشہ کی جدائی کی صورت میں ادا کرنا کتنا کرب ناک ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ کسی جگہ پیدا ہونا، اور پوری کی پوری عمر ماں پاب ، بہن بھائیوں ، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ مل کر بیتانا کتنی بڑی خوش بخٹی ہے۔

گلی کی اختتام پر برلبِ سڑک بوٹا ٹی سٹال تو موجود تھا لیکن چاچے صاحبے کا کوئی نام و نشان نہ تھا، ٹی سٹال کے داخلی دروازے کے محرابی شیڈ پر ریڈیو کی جگہ البتہ ایک سی ڈی پلیئر نے لے لی تھی جس پر کوئی غزل چل رہی تھی،
چکور خوش ہے کہ بچوں کو آگیا اڑنا
اداس بھی ہے کہ رت آگئی جدائی کی
اکرم کی آنکھیں بھر آئیں، آگے سننے کی تاب نہ تھی، وہ بوجھل قدموں سے مڑا اور بیچ والی سڑک کو چھوڑ کر مرکزی شاہراہ کی طرف چل پڑا جو سیدھا ائیر پورٹ کی طرف جاتی تھی۔

افسانہ: وسیم رضا
(31.07.2019, Italy)

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *