سپریم کورٹ،قتل کیس سے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار،7 ملزم بری

سپریم کورٹ،قتل کیس سے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار،7 ملزم بری

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کیس سے متعلق ہائیکورٹ کا کالعدم قراردے کر 7 ملزموں کو بری کردیا،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے ملزمان ڈکیتی کے دوران شناختی کارڈ اور بجلی کا بل بھی لے گئے،آج کل تو مہنگائی کی وجہ سے مالک کو بجلی کا بل بھرتے ہوئے مشکل ہوتی ہے ،ڈاکو بل بھرنے کیلئے ساتھ لے گئے،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے ڈکیتی اور قتل کے 2واقعات میں محمد اشرف کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،ٹرائل کورٹ نے ساتوں ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی،ہائی کورٹ نے ساتوں ملزمان کی سزا کم کر کے عمر قید میں تبدیل کی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،عدالت نے کہا کہ پولیس اور مدعی پارٹی نے مل کر کہانی بنائی، پوسٹ مارٹم 14گھنٹے کی تاخیر سے ہوا، گواہان کو بعد میں خود سے بنایا گیا،چیف جسٹس پاکستان نے وکیل سے استفسار کیا کہ کہ عام طور پر ڈکیتی کے مقدمات میں پولیس کو معلوم ہوتا ہے واردات کس نے کی،آپ کہہ رہے ہیں ملزمان پہلے کسی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نہیں ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 2واقعات ہوئے ایک ڈکیتی کا اور بعد میں قتل کیا گیا، ملزمان ٹریکٹر ٹرالی سے آئے لیکن سائیڈ پلان میں کوئی ذکر نہیں ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ مدعی کے بھائی کا قتل ہوگیا اسے معلوم نہیں ایف آئی آر درج کروانی ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے ملزمان ڈکیتی کے دوران شناختی کارڈ اور بجلی کا بل بھی لے گئے، آج کل تو مہنگائی کی وجہ سے مالک کو بجلی کا بل بھرتے ہوئے مشکل ہوتی ہے ،ڈاکو بل بھرنے کیلئے ساتھ لے گئے، عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر 7ملزمان کو بری کر دیا،سپریم کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے 7ملزمان کو بری کر دیا۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *