اہم خبریں

آرزوئے سحر تحریر: انشال راؤ عنوان: فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حقیقت

آرزوئے سحر تحریر: انشال راؤ عنوان: فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حقیقت

ایک طرف میڈیا پنڈت، سیلیبرٹیز، دانشور اکتوبر، نومبر میں پاک بھارت جنگ کے واضح اشارے دے رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی پنڈت موقع غنیمت جان کر حکومت کیخلاف علم بغاوت کرکے کھڑے ہوگئے ہیں جس کا موجودہ عالمی و علاقائی حالات سے بڑا گہرا تعلق ہے اور اس کی مختلف سطحیں نمایاں ہیں، پہلی یہ کہ اندرونی طور پر پاک بھارت صورتحال انتہائی کشیدہ و نازک ہے، دوسری یہ کہ امریکہ و چین میں سرد جنگ عروج پر ہے جسکا اندازہ UN جنرل سیکریٹری کے بیان “looming risk of World splitting into two, US & China creating rival internets, currency, trade, financial rules & their zero sum geopolitical & military strategies” سے لگایا جاسکتا ہے، تیسری صورتحال نظام کی ہے جو اب آکر امریکہ کو لڑکھڑاتا نظر آرہا ہے اور اگر امریکہ کے اس نظام کے مدمقابل دوسرا نظام آکر کھڑا ہوگیا تو وہ بخوبی واقف ہیں کہ نہ امریکی چودھراہٹ رہیگی نہ ہی خوشحالی، تیسری سطح پر بالکل نمایاں مذہبی ٹکراو ہے یہ جتنی خفیہ ہے اس سے زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آگئی ہے ایک طرف تو بھارت میں ہندوتوا کا پونیا بھومی بھارت یا اکھنڈ بھارت کا خواب عملی میدان میں داخل ہوگیا ہے، اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا خواب کسی سے مبہم نہیں، امریکی صدر بش 2001 میں صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان بھی کرچکے ہیں تینوں گروہوں کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ ہے اور سب سے پرائم ٹارگٹ پاکستان ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور مخالف قوتوں میں چین و دیگر بہت سے مسائل کو لیکر کافی عرصے سے ٹھنی ہوئی ہے اور رہی سہی کسر عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر نے پوری کردی جس نے امریکی بھرم کی ایسی تیسی کرکے رکھ دی، “Ledeen Doctrine” امریکہ کا بھرم دنیا میں قائم رکھنے کے لیے امریکی پالیسی کا اہم پہلو ہے جس کے مطابق ہر دس سال میں کسی کمزور ملک کو کھڈے لگادینا ہے تاکہ امریکہ کا رعب دنیا میں قائم رہے اگرچہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امریکہ کی حربی طاقت کا کوئی اندازہ ہی نہیں اور مزیدیکہ سارے نظام پہ اس کا طوطی بولتا ہے مگر پاکستان نے امریکہ کے مقابلے میں چین کو لاکھڑا کیا ہے جو اسے کسی طور بھی برداشت نہیں، امریکہ کی یہی پالیسی رہی ہے کہ ناپسندیدہ حکومت کو تبدیل کردو، اس تمام تر نازک صورتحال میں مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ایک نئی سطح بن کر سامنے آیا ہے جس نے اندرونی محاذ کو نہ صرف گرم کرکے رکھدیا ہے بلکہ اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے اندرونی دشمن انتہائی پُرجوش نظر آرہے ہیں، مولانا صاحب بضد ہیں کہ وہ حکومت گرا کر ہی دم لینگے اور PPP، نواز لیگ، ANP، اچکزئی پس پردہ اس نکتے پہ ایک پیج پہ ہیں، اس مقصد کے لیے مولانا صاحب مذہب کارڈ بھی استعمال کرتے نظر آئے اگر حکومت گراو تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ جتنی بھی حکومت گراو تحریکیں چلیں ان میں مذہب کارڈ و مذہبی تحریکیں پیش پیش رہیں، صدر ایوب کیخلاف جو تحریک چلی اس کا مرکزی کردار مذہبی جماعتیں ہی تھیں، بھٹو صاحب کے اقتدار کے خاتمے میں بھی یہی مذہبی جماعتیں آگے آگے تھیں بالکل اسی طرح نوازشریف اور بینظیر کی حکومتوں کو الٹنے کے لیے بھی مذہبی جماعتوں کا ہی استعمال کیا گیا، بعد ازاں رمز فیلڈ کا صدر بش کو لکھا جانے والا میمو جس میں یہ کہا گیا کہ “افغانستان کے ساتھ ساتھ ایک اور ریاست جو دہشتگردی کو سپورٹ کرتی ہے اس میں حکومت کی تبدیلی امریکہ کی پالیسی کا حصہ ہونا چاہئیے تاکہ امریکی مفادات کا استحکام ممکن ہوسکے” اسی کے تحت میثاق جمہوریت ہوا، مشرف سے NRO کروایا گیا اور مشرف پرویز کے اقتدار کا سورج غروب کرنے میں بھی وکلا تحریک سے زیادہ مذہب کارڈ استعمال ہوا، پہلے تو لال مسجد کو دہشتگردی کا کیمپ بناکر پیش کیا گیا پھر اسی لال مسجد کے سانحے کو مشرف کے خلاف استعمال کیا گیا، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مذہب کارڈ اور مذہبی جماعتوں کو یہ راستہ مقتدر حلقوں نے ہی دکھایا اس کے علاوہ ماضی میں کبھی لاک ڈاون یا اسلام آباد پر چڑھائی کا رواج نہیں تھا لیکن قادری لانگ مارچ سے یہ نیا طریقہ متعارف ہوکر عمران خان و قادری لانگ مارچ اور فیض آباد دھرنے تک ملکی سیاست میں سرایت کرگیا جو اب مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی صورت مخالفت میں سامنے آرہا ہے، اس کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا تو قبل از وقت ہے البتہ ملکی و علاقائی و عالمی حالات کے پیش نظر یہ لانگ مارچ کسی طور بھی حکومت اور ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ موقع پرست تو ایسی صورتحال کے ہی منتظر ہیں جو مولانا صاحب نے ان کو تحفتاً گفٹ کردی، مولانا صاحب مذہب کارڈ کو استعمال کرنے کی پوری پوری کوشش کررہے ہیں کیونکہ یہی وہ جذبہ ہے جو عوام کو قربانی دینے پر آمادہ کرنے اور جوش دلانے کے لیے سب سے موثر جذبہ مذہبی ہی ہے جس کے زیر اثر لوگ جانیں تک لٹا دیتے ہیں یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ایسی تحریکوں سے ماضی میں حکومتوں کا خاتمہ تو ہوتا رہا جو کسی مخصوص گروہ یا طبقے کو ناپسند رہیں لیکن اس سے نہ تو اسلام کو فائدہ پہنچا نہ ہی مذہبی طبقے کو کچھ ہاتھ لگا یقیناً اس بار بھی وہی ہونا ہے جیسے ماضی میں ہوتا رہا ایک کی جگہ دوسرے چہرے نے لے لینی ہے اور عوام بیچاری تنزلی سے مزید تنزلی کی طرف جائیگی، بظاہر اس تحریک سے دشمن قوتوں کا فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے یا پھر کرپٹ اشرافیہ کا جبکہ اس کا کل نقصان ملک و قوم سے بڑھ کر مذہبی طبقے کو ہی پہنچتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ عوام زرداری و نواز شریف کے کردار کو لیکر ایک فی صد بھی مطمئن نہیں اور ہر شخص کی زبان پہ ان کے دور اقتدار میں ہونے والی کرپشن کے ترانے ہیں ایسے میں مولانا صاحب کی طرف سے ان کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے سے عوام میں جو میسج جائیگا اس کا نتیجہ “کرے ایک بھریں سب” کے تحت علماء کی قدر لوگوں کے دلوں میں گر جائیگی، سوشل میڈیا ہو یا نجی محفلیں غالب اکثریت کی زبان پہ یہی باتیں ہیں کہ مولانا صاحب کو اسلام اور عوام کا خیال اس وقت نہیں آیا جب وہ مختلف مراعات لیکر زرداری صاحب کے قدموں میں بیٹھ گئے تھے، بعد ازاں نوازشریف کیساتھ بھی مولانا صاحب کے یہی معاملات ٹھہرے، اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ موصوف کو نہ کسی مہنگائی کا خیال ہے نہ ہی عوام کا درد اگر کچھ ہے تو صرف بیروزگار ہونے کی تکلیف اور ظاہر سی بات ہے بڑھاپے میں بیروزگار ہوجانے سے بڑا غم بھی کوئی نہیں، مولانا صاحب نے زرداری حکومت کے خلاف بھی یونہی گرمی دکھائی پھر کچھ مراعات لیکر خوش ہوگئے اس کے بعد نوازشریف کیخلاف بھی بہت بولے اور کچھ مراعات لیکر خوش ہوگئے تو اب وہ عمران خان کو بھی روزگار کے لیے للکار رہے ہیں لیکن اگر مخالف قوتوں سے مولانا صاحب کو زیادہ مل چکا ہوگا تو بات خراب ہی رہنی ہے، مولانا صاحب آزادی مارچ کے جواز کے طور پر مذہب، مہنگائی، کرپشن کو بنیاد بنارہے ہیں جبکہ سابق ادوار میں بھی کوئی دودھ و شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں، اس کے علاوہ مولانا صاحب پر تو خود بہت سے کرپشن و بدعنوانی کے الزامات ہیں جن کے لیے وہ خود کو پیش کرنے کے لیے بھی تیار نہیں اس کے علاوہ مولانا کے اتحادیوں پر تو سر تا پیر کرپشن کے الزامات ہی نہیں کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے ان سے انہیں کوئی شکایت نہیں جبکہ نعرہ ہے یہودیوں کے خلاف ہونے کا مگر یہود کا شعور دیکھیں، تاریخ میں اسرائیل کو سب سے مشکل حالات سے نکال کر پہلے سے آٹھ گنا طاقتور بنانے والے بنجامن نیتن یاہو کو صرف اس لیے کامیابی نہیں ملی کہ ان پر کرپشن کے الزامات تھے، چین میں رواں ہفتے ہی ایک اہم شخصیت کے گھر پر چھاپہ مار کر کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے مگر کسی طرف سے اس کی حمایت میں آواز نہیں اٹھی اور نہ کسی نے اس کاروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا جبکہ پاکستان میں اگر کرپٹ اشرافیہ پہ ہاتھ ڈالا جائے تو اسے سیاسی انتقام قرار دے دیتے ہیں بلکہ مولانا فضل الرحمان جیسے لوگ تو عوام میں بیداری شعور کو ہی دفن کرنے کے لیے میدان میں آجاتے ہیں، پاکستان میں سیاستدانوں کی غالب اکثریت سرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں پہ مشتمل ہے ان کا خاص گٹھ جوڑ کرپٹ و بدعنوان بیوروکریسی سے ہے جس میں تقریباً پندرہ سالوں سے کچھ نام نہاد صحافی بھی شامل ہوگئے سات دہائیوں کے گزرنے کے باوجود اس طبقے نے کبھی عوام میں سیاسی شعور بیدار نہیں ہونے دیا نہ ہی چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تعلیم کو مڈل کلاس و غریب طبقے کے لیے مشکل سے مشکل بناتے آئے ہیں اور انتہائی غیرمعیاری درجے کی تعلیم مہیا کی جاتی رہی، عمران خان نے جو سب سے بڑھ کر کام کیا وہ بیداری شعور ہے جس سے نہ صرف وڈیروں، جاگیرداروں کو خطرہ ہے بلکہ گدی نشین و حرف آخر مولانا بھی محفوظ نہیں، ایسے میں بھلا چودھراہٹ کس کو پیاری نہیں، مولانا صاحب تو چاہیں گے ہی وہی نظام جس میں ان کی چودھراہٹ و تعظیم قائم رہے پھر اس کے بعد وہ ان کی اگلی نسل میں منتقل ہوجائے یوں ان کا چولہا جلتا رہیگا، کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان پر تباہی کے بادل ہر چہار اطراف سے منڈلا رہے تھے تو کسی کو کوئی تکلیف نہ تھی لیکن جیسے ہی پاکستان ان حالات سے نکلتا نظر آیا تو بہتوں کے بعد مولانا فضل الرحمان بھی اس صف میں شامل ہوگئے، مولانا صاحب ایک طرف تو اسلام کے ٹھیکیدار ہیں جبکہ کچھ دن قبل فاٹا کو مقبوضہ کشمیر سے تشبیہہ دیتے بھی نظر آئے جسکا سیدھا سیدھا مطلب بھارتی فوج کے ظلم کو ڈھک کر PTM کے لسانیت ایجنڈے کو تقویت بخشنا تھا، ایک ایسا وقت جب عمران خان عالمی قوتوں کو اقوام متحدہ میں للکار کر آئے اور دوسری طرف چین و امریکہ میں کشاکش اپنے عروج پر ہے تو مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کسے فائدہ پہنچانے کے لیے ہوسکتا ہے؟ جس شخص کے لیے مفتی تقی عثمانی جیسی شخصیت فخر کرے اس عمران خان پر مولانا فضل الرحمان کی طرف سے یہودی ایجنٹ ہونے کا الزام لگانا کونسی دین کی خدمت ہے؟ جب امریکی مفادات و پاکستانی مفادات کا ٹکراو عروج پر ہے تو داخلی انتشار کی سی صورتحال پیدا کرنا امن پسندی اور آزادی ہے تو تُف ہے ایسی آزادی پر، جب PTM کے غبارے سے ہوا نکل گئی تو مولانا صاحب کا یہ بیانیہ چلانا کہ پاک فوج فاٹا میں ظلم کررہی ہے تو کیا یہ لسانیت کو ابھار کر امریکی مفادات کو فائدہ پہنچانا نہیں؟ حضرت عمر فاروقؓ جیسی عظیم شخصیت خود کو احتساب کے لیے پیش کرسکتی ہیں تو کرپٹ اشرافیہ سے احتساب کے سوال پر مولانا صاحب کا سیاسی انتقام کا بیانیہ چلانا کہاں کا دین ہے کہاں کا اخلاق؟ دشمن قوتیں بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کی تباہی میں پاک فوج ان کی راہ میں رکاوٹ ہے اسی پاک فوج پر سیاسی مداخلت کے الزامات لگاکر کیا بھارت و دیگر دشمن قوتوں کے بیانیے کو استحکام دینا نہیں؟ پاکستان کی جب معاشی پوزیشن تنزلی سے نکل کر بہتری کی طرف جارہی ہے تو سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش صحیح ہے یا غلط؟ عوام پہ چھوڑتا ہوں۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *