تاجروں کی ہڑتال کے مقاصد سیاسی نہیں اقتصادی،ٹیکس مغربی ممالک جیسا اور سہولیات ایتھوپیا والی منظور نہیں:شاہد رشید بٹ

تاجروں کی ہڑتال کے مقاصد سیاسی نہیں اقتصادی،ٹیکس مغربی ممالک جیسا اور سہولیات ایتھوپیا والی منظور نہیں:شاہد رشید بٹ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ تاجروں کی ہڑتال کے مقاصد سیاسی نہیں اقتصادی ہیں،یہ ہڑتال حکومت کے نالائق و نا اہل مشیروں اورآئی ایم ایف کے اشاروں پر ناچنے والے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف ہو رہی ہے جنھوں نے عوام کی زندگیوں کو دھکتا ہواجہنم بنا دیا ہے،تاجرکسی قیمت پر محاز آرائی نہیں چاہتے مگر یہ ہڑتال آخری آپشن کے طور پر کی جا رہی ہے کیونکہ انھیں موجودہ مایوس کن حالات میں کہیں سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی اس لئے وہ بپھر گئے ہیں۔

شاہد رشید بٹ نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا جاگیرداروں کو ٹیکس معاف کرنا اورصنعتی شعبہ کے بڑے ٹیکس چوروں کے بجائے چھوٹے تاجروں پر ہاتھ ڈالنا کہاں کا انصاف ہے۔ جتنی تیزی سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اتنی ہی تیزی سے کاروبار ختم ہو رہے ہیں، مارکیٹیں سنسان ہیں جبکہ حکومت عملی اقدامات کے بجائے طفل تسلیوں اور دھکمیوں سے کام لے رہی ہے جس سے کاروباری برادری کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ملک بھر میںکاروبار ی حالات سیاسی حالات سے زیادہ نازک ہو رہے ہیں اور تاجروں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ زمینی حقائق سے متصادم نئے ٹیکس اقدامات اور ایف بی آر کی ظالمانہ شرائط نے تاجروں کو شٹر ڈائون پر مجبور کیا ہے کیونکہ وہ ان شرائط پر عمل درامد کی تاب نہیں رکھتے۔حکومت تاجروں کو دستاویزات مقدمات اور ٹیکس حکام کے بوجھ تک دبانا چاہتی ہے مگر کاروباری حالات کو بہتر بنانا نہیں چاہتی۔اگر حکومت مغربی ممالک کی طرز پر ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے تو سہولتیں ایتھوپیا والی نہ دے بلکہ یورپ اور امریکہ والی دے ۔ کاروباری برادری کے مسائل حل کئے جائیں اور ریفنڈ دبانے کے بجائے خودکار طریقہ سے فوری ادائیگی کی جائے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کا کاروباری نظام ترقی یافتہ ممالک سے بہت مختلف ہے۔ملکی معیشت غیر دستاویزی نظام پر چل رہی ہے جسے بتدریج دستاویزی شکل تو دی جا سکتی ہے مگر اسے راتوں رات بدلنا دیوانےکاخواب ہے۔انھوں نے کہا کہ تاجر بچاؤ مہم کے رہنماؤں نے ملک کے بڑے چیمبرز کی جانب سے افہام و تفہیم کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *