اہم خبریں

مہوش حیات اور صدارتی اعزاز

مہوش حیات اور صدارتی اعزاز

بریگیڈیئر (ر) فیصل مسعود
میں مہوش حیات کاکبھی بھی پرستار نہیں رہا۔ بلکہ میں تو اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ حال میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی حاصل کرنے والی اس فنکارہ کی بظاہر دلکشی کے باوجود میں ان کی کسی پرفارمنس کو بالاہتمام دیکھنے کی جستجو سے محروم رہا ہوں۔

تا ہم اسکے باوجودمیں دیگر اہم موضوعات (جیسا کہ نواز شریف کی ضمانت پر رہائی یا پھر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا مسلمان دوست روّیہ) کو نظر انداز کرتے ہوئے مہوش حیات پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ فی الحال میں اس سوال کو بھی پس پشت ڈالتا ہوںکہ جہاں جیل میں قید ہونے کی بناء پر میاں صاحب کے ذہنی تناؤ کی بات توسمجھ آتی ہے، کیا وہیں آزاد عدلیہ پر بھی کوئی ذہنی دباؤ تھا یا کہ نہیں؟ میں اپنے مسلمان بھائیوں سے بھی یہ پوچھنے کے موڈ میں نہیں کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو اسلام قبولنے کی دعوت دینے اور مغربی قائدین کو اس خاتون کو مشعل راہ بنانے کا مشورہ دینے کی بجائے اگراقلیتوں سے متعلق خود ہم ان کے رویے کو اپنا لیں تو کیا اس میں بھی حرج تونہیں؟ چنانچہ اندریں حالات ،میں مہوش حیات اور ان کو ملنے والے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی پر لکھنے پر ہی اکتفا کروں گا۔

اسیّ اور نوے کی دہائیوں میں جب پی ٹی وی اپنی کارکردگی اور مقبولیت کے لحاظ سے بام عروج پر تھا تو ہمیں بار بار بتایا جاتاتھا کہ وطن عزیز تخلیقی ٹیلنٹ سے مالا مال ہے ،جو کہ محض پی ٹی وی کے تنگی داماں کی وجہ سے ابھر کر سامنے نہیں آ پارہا۔

ضرور پڑھیں: ”اب وقت آ گیاہے کہ بھارت سچ بولے ۔۔۔“میجر جنرل آصف غفور نے زور دار پیغام جاری کر دیا
نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی نجی ٹی وی چینلز کی بھر مار کے ساتھ حالات یوں بدلے کہ ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں تھامے کسی ایک چینل پر ٹکنا مشکل ہوکر رہ گیا۔ ابتداءمیں عوام نے جس طرح ٹاک شوز اور مارننگ شوز کو پذیرائی بخشی،پرایئویٹ چینلز کے ڈراموں میں بھی خاطر خواہ دلچسپی دکھائی ۔ کچھ عرصہ گزرا تو محسوس ہوا کہ جہاں ہر نیوز چینل پرایک ہی طرح کے موضوعات کو ایک ہی شکل و صورت کے دانشورہر شام کھینچتے ،پھینٹتے اور چچوڑتے رہتے ہیں،وہیں ہر تفریحی چینل پر پیش کئے جانے والے گِھسے پٹے موضوعات کے ارد گرد گھومتا مواد بھی یکسانیت اور تخلیقی جمود کا مظاہر بن کر رہ چکاہے۔ مہوش حیات زوال پذیر ہوتے ہوئے پی ٹی وی اور ابھرتے نجی چینلز کے اسی دور کی پیداوار ہیں۔انہی مٹھی بھر چہروں میں ایک جو آپ کو ہر روز ہر چینل پراب بھی نظر آتے ہیں۔ ٹھا ٹھے مارتا ہوا ٹیلنٹ معلوم نہیں کہاں چلا گیا؟

درجنوں ٹی وی چینلز پر چلنے والے بیسیوں ڈرامے ایک بھی عظمیٰ گیلانی، روحی بانو،خالدہ ریاست،عابد علی،محمد قوی یا فردوس جمال پیدا نہیں کر سکے۔ مہوش حیات اگر صدارتی ایوارڈ کےلئے نامزد ہوئی ہیں تو شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مذکورہ بالا فہرست میں شامل عالی شان ناموں کو اب بار بار تو صدارتی حسن کارکردگی کے اعزاز کےلئے نامزد نہیں کیا جا سکتا!

میری رائے میں مہوش حیات پر شدت کے ساتھ تنقید کرنے سے پہلے ہمیں رک کر سوچنا ہو گا کہ آخر وطن عزیز میں آرٹ اور فنون لطیفہ سے وابستہ تخلیقی کام جمود بلکہ تنزل کا شکار کیوں ہے ؟ اس زوال کے پیچھے ایک بنیادی وجہ جو میں سمجھ سکتا ہوں وہ تحلیقی سرگرمیو ں اورفنون لطیفہ سے متعلق ہمارا منفی معاشرتی رویہ ہے۔ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے معرضِ وجود میں آنے کے باوجود پاکستان میں ثقافتی سر گرمیاں ستر کے عشرے کے آخر تک پھلتی پھولتی رہیں تا ہم اسّی کے عشرے میں ہمارے ہاں اسلام کا ایک مخصوص برینڈ بزور بازو متعارف کروایا گیا،جس کی تعبیر کے مطابق فنونِ لطیفہ سے متعلق سر گرمیاں از قسم سینما، ڈرامہ، رقص و موسیقی، تصویر کشی وغیرہ وغیرہ کی اگر بیخ کنی نہیں تو کم از کم حوصلہ شکنی ضرورکی جانی چاہیے۔

اس ماحول میں اگر پنجاب یونیورسٹی کے طلباءکا گروہ کیمپس کے اندر یا باہر منعقدہ شامِ موسیقی پر حملہ آور ہو کر فنکاروں کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے، یا کسی سڑک کے کنارے نصب مشاہیر کے مجسموں میں سے کسی ایک کو کسی خود ساختہ محمود غزنوی کا آہنی ہاتھ پاش پاش کر دیتا ہے، دم توڑتی فلم انڈسٹری، شاپنگ پلازوں میں بدلتے سینما گھر ،معدوم ہوتی آرٹ گیلریز اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی کسمپرسی منہ پھاڑے ہم سے ہمہ وقت دادرسی کے طلبگارہوں جبکہ اس دوران ریاست سمیت معاشرہ بے بسی کے ساتھ ےہ سب دیکھتا رہے ،تو کسی بھی مہوش حیات کومحض اس لیے اعزاز کا حقدار سمجھنا چاہیے کہ وہ شوبز سے جڑی تو رہیں۔

ہمارے معاشرتی رویوں کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں ہم فنون لطیفہ سے متعلق سرگرمیوں سے ذاتی طور پر محظوظ ہونے میں کوئی عار نہیں جانتے، ان کے تخلیق کاروں کو البتہ ہمارے ہاں حقارت کی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے ۔چنانچہ شو بز سے وابستہ افراد کا معاشرے میں اچھوت سمجھے جانے کا گلہ یکسر بے جا نہیں ہے ۔ ہم خلوت میں تو رقص و موسیقی سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اپنی اولاد کو اس راہ پر چلتے ہوئے قطعاً برداشت نہیں کر سکتے۔ہم سب اپنے اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجنیئر بنانا چاہتے ہیں تخلیق کار نہیں۔

جنرل مشرف نے سر محفل سر اٹھایا تو لوگ برداشت کر گئے تاہم جب انہوں نے طبلہ سیکھنے کی ٹھانی تو طوفان کھڑا ہو گیا۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ان کا ٹھٹھا اڑانے میں فنکار برادری او ر بالخصوص مذاحیہ فنکار سب سے آگے والی صف میں پائے گئے؟ بظاہر فنکاروں پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں تا ہم ہم میں سے کوئی ان کو اپنے ہمسائے میں مکان کرائے پر لیتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتا۔خان بڑے غلام علی خان سے ملنے کوبھارت سے ایک وفد پاکستان پہنچا۔،پوچھتے پچھاتے ایک محلے میں پہنچے تو گلی میں کھیلتے بچوں سے خان صاحب کے گھر کی بابت دریافت کیا، سوال و جواب کے بعد بچوں نے کسی ایسے نام کے شخص کی محلے میں موجودگی سے لا علمی کا اظہار کیا تا آنکہ ایک بچہ اچک کر بولا،’ اوئے! مراثیوں کے گھر کا پوچھ رہے ہیں‘۔

اس سال صدارتی محل میں برپا ہونے والی تقریب میں درجنوں نامور افراد کو ان کی خدمات کے صلے میں اعزازات سے نوازا گیا ہے۔تنقید مگر صرف فلم سٹار ریما اور مہوش حیات پر ہو رہی ہے۔یار لوگوں نے دونوں خواتین با لخصوص مہوش حیات کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔عمران خان سے نفرت میں مبتلا دوست حسب توقع اس سنگین ناانصافی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں تاہم میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس تنقید کے پیچھے محض عمران خان سے نفرت کا جذبہ ہی کارفرما ہے یا کہ پھر ریما اور مہوش حیات کا ایک عورت ہونا اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد سے حقارت پر مبنی ہمارے روایتی رویے کا بھی اس میں کچھ ہاتھ ہے!۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *