اہم خبریں

جولان کا پہاڑی علاقہ: اسرائیلی تسلط اور امریکی احمقانہ فیصلے

جولان کا پہاڑی علاقہ: اسرائیلی تسلط اور امریکی احمقانہ فیصلے

صابر ابو مریم
جولان کی پہاڑیوں سے متعلق کالم پیش کرنے سے قبل یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اس کا صحیح تلفظ بھی پیش کیا جائے کیونکہ غلط العام میں اب اس کو گولان کی پہاڑیاں کہا جاتا ہے جس کی اصل وجہ انگریزی اور اردو تلفظ کا غلط ملط ہو جانا ہے۔

جولان کی پہاڑیوں کی بات کریں تو یہ علاقہ شام کی سرزمین کا حصہ ہے جس پر غاصب اسرائیل نے عرب اسرائیل جنگ کے دوران سنہ1967ء میں قبضہ کر لیا تھا، یاد رہے اس جنگ میں مصر کو بھی وادی سینا کا بڑا علاقہ ہاتھ سے کھونا پڑا تھا جبکہ اس جنگ میں اسرائیلی غاصب دشمن لبنان کے جنوبی علاقوں میں بھی فوج داخل کرنے میں کامیاب ہو ا تھا جو پھر قبضہ سنہ2000ء تک جاری رہا اور پھر لبنان کی مزاحمتی تحریکوں نے اسرائیل کو وہاں سے نکال باہر کیا۔البتہ آج بھی ان علاقوں میں سے شعبا فارمز نامی جنوبی لبنان کا علاقہ صہیونیوں کے تسلط میں ہے۔

جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ کو واپس لینے کے لئے شام نے دوسری عرب اسرائیل جنگ جو سنہ1973ء میں لڑی گئی تھی اس میں کچھ حصہ آزاد کروا لیا تھا لیکن آج بھی اسرائیل جولان کے ایک بڑے حصہ پر قابض ہے۔

گذشتہ دنوں امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر ہمیشہ کی طرح سے احمقانہ فیصلوں کو صادر کرنے کی روایت قائم رکھتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ جولان کی پہاڑیوں کے معاملے پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کیاجائے گا۔اس ٹوئٹ کے بعد انہوں نے ایک دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے احکامات صادرکر دئیے ہیں کہ جولان کے علاقے پر صہیونی تسلط نہیں بلکہ یہ علاقہ اسرائیل کا ہی ہے۔ اس یکطرفہ حکم نامہ نے دنیا بھر کی سیاست میں ایک بھونچال کھڑا کر دیا ہے ۔امریکی صدر نے بالکل اسی طرح یکطرفہ اعلان کیا ہے جیسا کہ انہوں نے گزشتہ برس میں یروشلم شہر کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا یکطرفہ اعلان کیا تھا جس پر پھر ان کو منہ کی کھانا پڑی تھی۔اس مرتبہ بھی دنیا بھر میں امریکی صدر کے یکطرفہ احمقانہ فیصلہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے اور خود بین الاقوامی فورمز کی کارکردگی بھی اس فیصلہ کی وجہ سے سوالیہ نشان کی زد میں آ چکی ہے۔

قارئین کے علم میں یہ بات لانا بھی ضروری ہے کہ جولان کی پہاڑیاں شام کا وہ علاقہ ہیں جو سنہ1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر سنہ1981ء میں باقاعدہ اس علاقہ کو اسرائیل کے ساتھ شامل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے مقابلے میں اقوام متحد ہ کی قرار دادیں یہ کہتی ہیں کہ جولان کی پہاڑیاں تاحال شام کا علاقہ ہیں اور اسرائیل اس پر غاصب اور قابض کی حیثیت سے موجود ہے۔

مغربی ایشیاء کے سیاسی ماہرین امریکی صدر کے اس اعلان کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاید ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ میں موجود صہیونی لابی نے امریکی سیاستدانوں اور کچھ سینیٹرز کے ذریعہ امریکی صد ر کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ امریکہ میں موجود صہیونی لابی اسرائیل کے نام نہاد ہونے والے نئے انتخابات میں نیتن یاہو کو مضبوط امید وار کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تاہم اسی لئے امریکی صدر نے ان کو ایک تحفۃ کے طور پر جولان کی پہاڑیاں دینے کا اعلان کیا ہے ۔البتہ امریکی صدر کا یہ یکطرفہ اعلان جولان کی پہاڑیوں کی اصل شناخت یعنی شام کے علاقے سے تبدیل کر کے اسرائیلی علاقہ نہیں بنا سکتا۔کیونکہ امریکی صدر کا یہ اعلان دراصل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 242سے براہ راست تضاد اور ٹکراؤ رکھتا ہے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق امریکی صدر نے جولان سے متعلق یکطرفہ فیصلہ صادر کرتے ہوئے امریکہ میں موجود صہیونی لابی AIPACکی خوشنودی بھی حاصل کی ہے اور ساتھ ساتھ مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے ۔حقیقت میں امریکہ و اسرائیل کی پریشانی بڑھ چکی ہے کیونکہ وہ شام و عراق میں براہ راست اور بالواسطہ شکست کھا چکے ہیں اور اب امریکہ و اسرائیل کو مشترکہ طور پر یہ خطرہ لاحق ہے کہ شام آنیو الے وقت میں اپنی سرزمین پر صہیونیوں کا قبضہ نہیں دیکھنا چاہے گا۔

خطے کے زمینی حالات بتا رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل شام کی گذشتہ سات برس کی صورتحال میں اب تک کسی قسم کی کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حالانکہ اب یہ رپورٹس منظر عام پر آ چکی ہیں کہ شام کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بنائی جانے والی دہشت گرد تنظیم داعش کو امریکہ اور اسرائیل نے ہی بنایا تھااور ان ہی کیجانب سے ان کو اسلحہ اور مالی معاونت کی جا رہی تھی تا کہ شام سے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے لیکن نتائج اس کے بالکل برعکس نکلے ہیں کیونکہ شام کے اتحادیوں بشمول روس، ایران،چین، حزب اللہ اور دیگر کی مشترکہ کوششوں سے شام سے تا دم تحریر آنے والی اطلاعات کے مطابق کرد علاقوں میں موجود آخری داعشی ٹھکانوں پر بھی شامی افواج نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔شاید امریکہ کے لئے سب سے بڑا درد سر اب یہی ہے کہ شام جو کہ داعش جیسی خطر ناک دہشت گرد تنظیموں سے نمٹ سکتا ہے اور ماضی قریب میں اسرائیلی میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ جوابی کاروائی بھی کر سکتاہے تو کسی بھی وقت اپنے مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل کے تسلط سے آزاد کروانے کے لئے بھی خاموش نہیں رہے گا۔

شام کے علاقے جولان کی پہاڑیوں پر صہیونیوں کے تسلط کے عنوان سے امریکی صدر نے اسرائیل کی خود مختاری کا اعلان کیا ہے تویاد رہے کہ امریکی فیصلہ 1974ء میں طے پانے والے اسرائیل اور شام کے درمیان امن معاہدے کے بھی خلاف ہو گا۔ ہمیں اچھا لگے یا نہ لگے، جولان ہائٹس شام کی سرزمین کا حصہ ہیں۔” سیاسی مبصرین کی نظر میں جولان ہائٹس کے بارے میں اسرائیل کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کی ایک وجہ شام کے موجودہ حالات بھی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف آٹھ سالہ جنگ کے بعد شام حکومت نہ صرف کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے بلکہ شام کی مسلح افواج کسی بھی قسم کی فوجی کاروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ اسلامی مزاحمتی فورسز نے بھی گولان ہائٹس کے قریب اپنی پوزیشن مضبوط بنا لی ہے۔ شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے حال ہی میں کہا ہے: “دمشق جولان ہائٹس پر قبضہ مضبوط بنانے کیلئے انجام پانے والی اسرائیلی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے میں تذبذب کا شکار نہیں ہو گا۔

خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ جو پہلے ہی مشرق وسطی میں متعدد محازوں پر شکست سے دو چار ہو چکا ہے اب اپنی رہی سہی ساکھ کو اس طرح کے اعلانات اور یکطرفہ فیصلوں سے ناپید کررہا ہے ۔صہیونی مفادات کے خاطر امریکہ دنیا بھر کی مخالفت اور نفرت مفت میں ہی خرید کر اپنی قبر کھودنے کا کام کر رہاہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے پر سیاسی ماہرین کی رائے یہی تھی کہ امریکہ کو اب کسی دشمنوں کی ضرورت نہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی امریکہ کو تہس نہس کرنے کے لئے کافی ہیں۔تاہم اب یہ آراء درست ہوتی نظر آ رہی ہیں۔امریکی صدر کے اس طرح کے احمقانہ اعلانات اور فیصلوں سے جہاں دنیا بھر میں امریکہ کو سبکی اٹھانا پرتی ہے وہاں عالمی اداروں اور بین الاقوامی فورمز اور قوانین پر بھی سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہوتے ہیں ۔کیا دنیا کی سیاست کے معاملات اسی طرح چلائے جائیں گے کہ جب امریکی صدر کا دل چاہے گا وہ شام پر دہشت گرد گروہوں کے حملوں کی حمایت کریں گے یا پھر جب شکست کھاجائیں گے تو شام کی سرزمینوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کر کے بین الاقوامی معاہدوں اور قرار دادوں کو دھجیاں بکھیر دیں گے؟ کیا دنیا کی سیاست اسی بات کی متقاضی ہے کہ امریکی صدر کو بے لگام چھوڑ دیا جائے کہ وہ ایران اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر اپنا قبضہ حاصل کرنے کے لئے ایران پر پابندیاں عائد کریں اور وینزویلا میں انارکی پھیلانے میں براہ راست ملوث ہوں؟ کیا دنیا کے سیاسی نظام کو امریکی صدر کی من مانی پر چھوڑ دیا جائے کہ جہاں امریکی صدر کی آشیر باد سے فلسطین میں اسرائیل ظلم و بربریت کا بازار گرم رکھے تو دوسری جانب سعودی عرب کے حکمران یمن میں قتل عام کا بازار گرم رکھیں ،اور ان دونوں پر نگرانی امریکی حکام کی ہو؟آج امریکی صدر کے احمقانہ فیصلے اس بات کی دلیل ہیں کہ امریکہ شام سے متعلق شدید پریشانی کا شکار ہو چکا ہے اور امریکہ سمیت اسرائیل کو یہ خطرہ لا حق ہے کہ دیر یا جلدی بہر حال شام اپنی مقبوضہ سرزمین کو صہیونی دشمنوں سے آزاد کروانے کے لئے ضرور اقدامات کرے گا۔یہی اقدامات آگے چل کر عنقریب فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *