اہم خبریں

پاکستانی لڑکیوں سے چینی باشندوں کی جعلی شادیاں : اداریہ

پاکستانی لڑکیوں سے چینی باشندوں کی جعلی شادیاں  :  اداریہ

چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں کے تناظر میں ایسی خبریں بڑے دکھ کے ساتھ سنی گئیں کہ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران چینی باشندے جعلی شادیوں کیلئے پاکستان آئے، میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے نہ صرف مسلمان ہونے کے جعلی سرٹفکیٹ حاصل کئے بلکہ اپنے نام بھی مسلمانوں والے رکھے اور پاکستانی لڑکیوں کو شادی بعد چین لے جاکر انھیں نہ صرف زبردستی جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں دھکیلا بلکہ ان انسانی اعضا نکال کر بھی فروخت کئے۔
ابتدا میں اس نوعیت کی وحشت ناک خبروں کے منظرِ عام پر آنے پر عمومی طور پر پاکستانیوں کو یقین نہ آیا کیونکہ چینی حکومت و قوم کے بارے میں پاکستا نی عوام کے خیالات بہت مثبت ہیں لیکن چونکہ ہر قوم میں اچھے برے لوگ موجود ہوتے ہیں لہذا پاکستانی حکومت اور پاکستانی میڈیا نے ایسی خبروں پر سنجیدگی سے توجہ دی اور جلدہی سراغ لگا لیا کہ چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے ہونے والی تمام نہیں تو اکثر شادیوں کے پیچھے مفاد پرست اور غلط عناصر مصروفِ عمل ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متاثرہ پاکستانی لڑکیوں کی بعض وڈیوز نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی۔ ان وڈیو پیغا مات سے یہ اندازہ بھی ہوا کہ اس جرم میں دونوں جانب کے مفاد پرست ملوث ہو سکتے ہیں
پاکستان اور چین کے باشندوں کے ملاپ کے حوالے سے ان تکلیف دہ واقعات کے بعد اب پاکستان میں چینی سفارت خانہ نے بھی اس حوالے سے ایک وضاحت جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین میں انسانی اعضا کی خریدو فروخت پر پابندی ہے، انسانی سمگلنگ کے خلاف بھی قوانین موجود ہیں۔ چینی باشندوں کی پاکستانی خواتین سے شادی کے غیر قانوں ی مراکز کی موجودگی کی اطلا عات کا بھی سختی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ اس قسم کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ وضاحت میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کا جعلی شادیوں کے مراکز کے خلاف کاروائی کیلئے پاکستان سے تعاون جاری ہے تاہم دونوں ممالک کے افراد اس قسم کے دھوکہ بازوں سے ہو شیار رہیں۔
چینی باشندوں کا پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں کے معاملہ کے حوالے سے منظرِ عام پر آنے والی شکایات پر چینی حکومت کا بر وقت نوٹس لینا قابلِ تعریف ہے تاہم توقع کی جاتی ہے کہ اگر ان جعلی شادیوں میں پاکستانی افراد بھی ملوث ہیں تو حکو متِ وقت ان عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کو یقینی بنائے گی تا کہ دونوں اقوام کے مابین اعتماد کی فضا قائم رہے اور اگر چینی و پاکستانی باشندے باہمی رضامندی اور خلوصِ نیت سے شادی جیسے مقدس بندھن میں بندھنا چاہتے ہیں تو ان کے بھروسے کا خون نہ ہو۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *