اہم خبریں

لوڈ شیڈنگ نہ ختم ہونے والا عذاب۔۔۔!

لوڈ شیڈنگ نہ ختم ہونے والا عذاب۔۔۔!

مقصود انجم کمبوہ

یورپین ممالک بجلی پیدا کرنے کے نئے نئے طریقے تلاش کرنے میں شب و روز تحقیق و تفتیش میں لگے ہوئے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ توانائی کا بحران پوری دنیا کو پریشان کر رہا ہے۔ ترقی پزیر ممالک کرپشن، بد عنوانی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث بہت زیادہ بحرانوں کے شکار ہیں۔ صنعتی، معاشی و اقتصادی ترقی کی اصل بنیاد بجلی ھے۔ٰٰٰٰٰجس کے حصول کو مستحکم بنانے کی بھر پور سعی کی جارہی ہے۔
موجودہ دور میں ہر شعبہ زندگی میں بجلی کی اشد ضرورت ہے اور افادیت اظہر من الشمس ہے۔ بجلی مختلف ذرائع سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان میں سے کچھ ذریعے ایسے ہیں جن سے فضا میں آلودگی بڑھتی ہے اور مختلف نوع کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ ذریعوں پر لاگت بھی بہت زیادہ آتی ہے۔ مگر ہوا کی قوت سے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ اس لحاظ سے بہت اچھا ہے کہ ہوا یا پون بجلی کے جنریٹر کم خرچ بھی ہیں اور ان سے آلودگی میں بھی اضافہ نہیں ہوتا۔ اپنی گو نا گوں خوبیوں اور افادیت کے پیش نظر ہوا سے چلنے والے ونڈ پاور جنریٹروں کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ بات تازہ ترین ایئر وائن رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ جو فراؤن ہوفر انسٹی ٹیوٹ نے تحقیقی جائزے کے بعد مرتب کی ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی انسٹی ٹیوٹ نے اس مقصد کے لیے پورے یورپ میں مختلف مقامات پر نصب 6400ونڈ پاور جنریٹروں کے سروے اور تحقیق کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کی ہے۔ ہوا کی قوت سے چلنے والے جنریٹروں سے مجموعی طور پر ایک ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی یعنی نو ملین کلو واٹ فی گھنٹے توانائی حاصل ہوتی ہے جس سے دو ملین افراد کی بجلی کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ ان جنریٹروں کی کارکردگی میں اضافہ کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال میں لائی جا رہی ہے۔ اسی طرح سورج سے پیدا ہونے والی بجلی میں بھی اضافہ کرنے کی کوشش جاری ہیں۔ یورپین ممالک میں وافر بجلی پیدا کرنے کی سعی و کوشش جاری ہے۔
استوائی خطوں میں سورج کی شعاعوں کا اخراج سال بھر تقریباّ یکساں رہتا ہے۔ اس کے برعکس خط استوا سے دور اور بلند عرض البلد پر واقع خطوں میں موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ شعاعوں اور دھوپ میں کافی کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ مثلاّ وسطی یورپ میں سال بھر میں جتنی دھوپ پڑتی ہے اس کی 60فیصد دھوپ مئی اور اگست تک کے مہینوں میں پڑتی ہے۔ ان خطوں میں دھوپ کی صورتحال ضرورت کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ مثلاّ موسم سرما میں جب روشنی اور عمارتوں کو گرم رکھنے کے لیے توانائی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ان دنوں دھوپ کا اخراج سب سے کم ہوتا ہے۔
یورپ میں بھی شمسی توانائی کو ابھی تک ثانوی حیثیت دی جارہی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں شمسی کولیکٹر نے صنعتوں میں پانی گرم کرنے کے شعبے میں افادیت اور اہمیت منوالی ہے۔ جنریٹروں نے اب اتنی ترقی کر لی ہے کہ ماہرین تعمیرات نہ صرف نجی رہائشی منصوبوں بلکہ بڑے صنعتی کارخانوں اور سوئمنگ پولز کے لیے ان جنریٹروں کی سفارش کرتے ہیں
ہمارے ہاں بجلی کا جو بحران پیدا ہوا ہے وہ حکمرانوں کی عدم توجہی، ناقص منصوبہ بندی، بجلی چوری، بدعنوانی اور دیگر عوامل و عناصر شامل ہیں۔ واپڈا کے ایک معمولی اہلکار سے لیکر بڑے افسران تک بجلی کے بحران کے ذمہ دار ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ایک میٹر ریڈر کو اتنے اختیارات حاصل ہیں کہ وہ بجلی چوروں کو اپنے پاپی پیٹ کو بھرنے کی غرض سے بجلی چوری کے اضافے کا ذمہ دار ہے۔ چھوٹے موٹے اہلکاروں سے اپنے گھروں کی بجلی دوسرے لوگوں کو دے کر موج اڑا رہے ہیں۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ میٹر ریڈرو ں اور اسسٹنٹ لائن مینوں نے بجلی چوری کی تعداد میں اضافہ کیا ہوا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ میٹر ریڈروں نے اپنے کسٹمرز کو بجلی چوری کا مکمل تحفظ دے رکھا ہے۔ ایک دو بار از خود واپڈا افسران کو بجلی چوروں کے بارے میں بذریعہ رجسٹرڈ لیٹر مطلع کیا مگر میری وہ درخواست ہی ریکارڈ سے غائب کر دی گئی۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ بعض مزدور تنظیموں کے عہدیدار بھی ایسی حرکتوں میں شامل ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ ایک ہی قوم کے افراد بجلی کے شعبہ پر مسلط ہیں اور وہ ایک دوسرے کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ہمارے ہاں ہونے والی لوڈ شیڈنگ نے پورے شہر کے نہ صرف دیئے بجھا رکھے ہیں بلکہ چولہے بھی۔ ہر شخص پریشانی کا شکار ہے۔ اس لاوارث شہر کے بے حس عوام کو جس طرح مسائل و مشکلات کا شکار کیا جا رہا ہے ایسی مثال کہیں نہیں ملتی۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ یہ شہر منافق صحافیوں کا ہے جو بجلی چوروں اور لوڈ شیڈنگ کے بڑھاوے کو واپڈا انتظامیہ کی مجبوری قرار دے رہے ہیں مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ایسے صحافیوں کی بھی کوئی مجبوری ہے جو وہ چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ملکی سطح پر کوئی ایسا منصوبہ کارگر نہیں ہو رہا جس سے کہا جائے کہ فلاں مہینے لوڈشیڈنگ سے جان چھوٹ جائے گی۔
سابقہ صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں بہت کم لوڈ شیڈنگ ہوا کرتی تھی۔ جب سے جمہوری حکومتیں وجود میں آئی ہیں بیل منڈھے نہیں چڑھ رہیں۔ناقص منصوبہ بندی، سیاسی بھرتیوں اور بد عنوانی کے باعث کوئی ایک منصوبہ بھی تکمیل ہوتا نظر نہیں آرہا۔
سولر انرجی کے پلانٹ ہوں یا ونڈ انرجی کا نظام سب کے سب لال جھنڈی دکھا رہے ہیں۔ کیا یورپی ممالک میں فرشتے آسمانوں سے اتر آئے ہیں جو پوری عوام کی پریشانیوں میں کمی کرتے ہیں۔اصل معاملہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سب چور، ڈاکو لٹیرے سیاست میں اتر آئے ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو عذاب میں مبتلا رکھ رہے ہیں۔ افسوس ایسے سیاسی ورکروں پر بھی ہے جو ان لٹیرے، چور، ڈاکو سیاستدانوں کے نعرے لگاتے ہیں وہ ایسے ہی جمہوری نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے چور ڈاکو سیاستدانوں کو فرشتے تصور کرتے ہیں اور نجات دھندہ سمجھتے ہیں۔ جب بھی ان چور ڈاکو سیاستدانوں کا احتساب شروع ہوتا ہے تو یہ ورکر ان کی اس طرح مدد کرتے ہیں، یا اللہ، یا رسول، بے نظیر، زرداری، بلاول، نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز بے قصور اور پھر وکٹری کے نشان بنا کر اور پھول کی پتیاں برسا کر ان کی ہمت و جرات بڑھاتے ہیں۔
جب تک احتساب کا عمل مکمل طور پر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتا عوامی مسائل و مشکلات کبھی ختم نہ ہو پائیں گے بلکہ یہ ملک قحط زدہ قرار پائے گا،۔ گزشتہ روز آصف علی زرداری، بلاول اور رانا ثناء اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر ملک میں صدارتی نظام قائم کیا گیا تو ان کے منہ میں خاک ملک ٹوٹ جائیگا، دنیا میں کتنے ایسے ملک ہیں جہاں صدارتی نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور ٹوٹنے کی سبیل پیدا نہیں ہوتی۔ یہ حقیقت ہے کہ جب چور، ڈاکو سیاستدان ہوں گے وہاں ملک کی ساکھ مجروع ہو گی۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *