اہم خبریں

بابائے قوم ہم شرمندہ ہیں

بابائے قوم ہم شرمندہ ہیں

رانااسدمنہاس
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
وطن عزیز کو معرض وجود میں آٰئے ہوئے آج ستر سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔اس ارض وطن کا خواب مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔جس کو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے شرمٰندہ تعبیر کیا۔یہ وطن لاکھوں لازاوال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔لاکھوں شہداء نے اپنے خون کے نظرانے پیش کیے۔لاکھوں خواتین بیوہ ہوئیں،بچے یتیم ہوئے،عزتوں کو تار تار کیا گیا اور لاکھوں افراد نے اپنے گھر بار اور املاک کو چھوڑا،تب جا کہ یہ چھوٹا سا ٹکڑا ہم نے حاصل کیا۔ان قربانیوں کا تزکرہ کرنے کے لیے کئی کالم درکار ہیں۔
قارئین کرام ان لاکھوں قربانیوں اور جد و جہد کے پیچھے ایک طویل پیس منظر تھا۔جس پس منظر کا عکس ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی مختف تقاریر میں نظر آتا ہے۔آج ہم انہی تقاریر کے کچھ اقتباسادات کی روشنی میں اسی پس منظر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔اس پوری تحریر میں اعزازی طور پر ہر دفعہ قائد اعظم محمدعلی جناح کی بجائے بابائے قوم لکھوں گا۔بابائے قوم نے قومیت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ : قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے مسلمان اس تعریف کی رو سے الگ قوم ہیں۔وہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنی الگ ممکت قائم کریں۔ مسلمانوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنی روحانی،اخلاقی،تمدنی،اقتصادی،معاشرتی،اور سیاسی زندگی کی کامل ترین نشو ونما کریں اور اس مقصد کے یے جو طریقہ اپنانا چاہیں اپنائیں۔یہ وہ نظریہ تھا جس کے تحت اس وطن عزیز کی بنیاد رکھی گئی۔
نظریہ پاکستان سے مراد برصغیر میں موجود مسلمانوں کا یہ شعور تھا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کی بنیاد پر دوسری اقوام سے الگ قوم ہیں۔۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کواسی سلسلہ میں ایک تاریخی قرار داد منظور کی گئی جس کو قرار داد لاہور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،جس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے بابائے قوم نے فرمایا کہ؛ہندو اور مسلمان دو علیحدہ مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔جو بلکل مختلف عقائد پر قائم ہیں اور مختلف نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔دونوں اقوام کے ہیروز،رزمیہ کہانیاں اور واقعات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔لہازا دونوں قوموں کو ایک لڑی میں پرونے کا مقصد بر صغیر کی تباہی ہے۔کیونکہ یہ برابری کی سطح پر نہیں بلکہ اقلیت اور اکثریت کے روپ میں موجود ہیں۔برطانوی حکومت کے لیے بہتر ہو گا کہ بر صغیر کی تقسیم کا اعلان کرے جو کہ مذہبی لحاظ سے ایک صحیح قدم ہو گا۔۲۹دسمبر ۱۹۴۰ کو احمد آباد میں خطاب کرتے ہوئے بابائے قوم نے فرمایا:پاکستان صدیوں سے موجود رہا ہے،شمال مغرب مسلمانوں کا وطن رہا ہے۔ان علاقوں میں مسلمانوں کی آزاد ریاستیں قائم ہونی چاہیے تا کہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں۔
پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد بابائے قوم نے فرمایا:ہمیں پنجابی،سندھی،بلوچی اور پٹھان کے جگڑوں سے بالا تر ہو کرسوچنا چاہیے۔ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں۔اب ہمارا فرض ہے کہ پاکستانی بن کر زندگی گزاریں۔اس کے علاوہ آپ نے اقلیتوں کو مکمل تحفظ دینے اوربرابری کے حقوق دینے کا اعلان کیایہی اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔یکم اکتوبر ۱۹۴۷ کو حکومت پاکستان کے فسران سے خطاب کرتے ہوئے بابائے قوم نے فرمایا:ہمارا نصب العین یہ ہے کہ ہم ایک ایسی مملکت تخلیق کریں جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں،جو ہماری تہذیب و تمدن کی روشنی میں پھلے پھولے اور جہاں معاشرتی انصاف اور اسلامی تصور کو ابھارنے کا موقعہ ملے۔
یکم جولائی ۱۹۴۸ کو بابائے قوم نے سٹیٹ بینک کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:مغرب کا معاشی نظام انسانیت کے لیے نا قابل حل مسائل پیدا کر رہا ہے۔ہمیں دنیا کے سامنے ایک ایسا معاشی نظام پیش کرنا چاہیے جو اسلام کے صحیح تصور مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی ہو۔
قارئین کرام بابائے قوم کے تمام تصورات پر اگر قلوب و اذہان کی کھڑکیاں کھول کو غور یا جائے تو ان میں ہمیں ہر حوالے سے اسلام،اسلامی اصول اور اسلامی نظریہ حیات مشترک نظر آتے ہیں۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بابائے قوم نے یہ ملک نفاز اسلام کے لیے حاصل کیا تھا۔
جہاں اسلامی شریعت اور حدوں کو نافذ کرنا تھا۔مگر مقام افسوس یہ ہے کہ ہم نے بابائے قوم کے جانے کے بعد ان کی نصیحتوں اور نظریات کی دھجیاں اڑا دی اور اس ملک کو لٹیروں کے حوالے کر دیا۔جو آج تک ہمیں روٹی کپڑا مکان،تعلیم صحت روزگار،خوشحال پنجاب،ترقی ہمارا مشن اور تبدیلی کے نام پر طرح طرح کے جھانسے دے کر لوٹ رہے ہیں۔پانچ سال بعد ایک نیا شخص نیا ڈھونگ رچا کر ملک لوٹ کر رفوع چکر ہو جاتا ہے۔ستر سال سے یہ وطن ان نظریات کی راہ تک رہا ہے جن کی بنیاد پر اس کو حاصل کیا گیا تھا۔آج تک اس ملک میں کسی ایک اسلامی حد کا نفاذ عمل میں نہیں آیابلکہ الٹا اسلامی نظریات کی مخالفت کی گئی۔گزشتہ دنوں خواتین کی جانب سے میرا جسم میری مرضی کے شرمناک نعرے لگائے گے تو کبھی کسی سیاسی خاتون کے جنازہ میں خواتین نے شرکت کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جنازہ نکال دیا لیکن نونی،جیالے اور تبدیلی خان کے کان پر جوں نہیں رینگی۔یہی وہ وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے وطن عزیز مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کی راہوں پر گامزن ہو تو پھر ہمیں اپنے اسلاف کے نظریات کی طرف لوٹنا ہو گا۔ہمیں بابائے قوم کے نظریات کے نٖفاذکے لیے جد و جہد کرنی ہوگی۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسلامی نظریہ حیات کے نفاظ کے لیے علم جہاد بلند کریں اور وطن عزیز میں شریوت کی حدوں کے نفاز کے یے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *