اہم خبریں

اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی ۔۔

اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی ۔۔

ڈاکٹر صابر حسین خان
ایسا لگتا ہے کہ 1983 سے 2019 تک جو بھی لکھا اور جتنا بھی لکھا , بس یونہی دل کے پھپھولے پھوڑے . 6 سال تک تک بندی اور اور نثری شاعری میں ہچکولے کھاتا رہا . پھر نفسیات میں غوطے لگاتا رہا . پھر اخلاقیات اور تطہیر انسانیت کے طلسم میں بہتا رہا . پھر روحانیت اور مابعدالطبیعات اور مابعدالنفسیات کے کرشمات میں الجھتا رہا . کئی کئی سالوں کے نہ لکھنے کے کئی وقفے بھی آتے رہے . کبھی تنہائی , کبھی اداسی , کبھی خود سے خفگی , کبھی اوروں سے ناراضی , کبھی مصروفیات اور دیگر مشغولیات , کبھی غم اور کبھی غصہ ،غرضیکہ مختلف اوقات میں مختلف کیفیات اور ان گنت رنگ کہنے , سوچنے اور لکھنے کے عمل پر اثرانداز ہوتے رہے .

ہر نیا رنگ , پچھلے رنگ سے گہرا ہوتا مگر چونکہ ہر بار ہر رنگ , مروجہ معمول کے رنگوں سے مختلف اور جداگانہ ہوتا , تو ننانوے فیصد لوگوں کے سروں پر سے گزر جاتا اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا . اور میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ جس زاویہ نگاہ سے میں چیزوں کو دیکھ رہا ہوں اور برت رہا ہوں اور لکھ رہا ہوں , اس زاویے سے اور سب لوگ کیوں نہیں اپنے اندر جھانکتے اور سوچتے اور سمجھتے ہیں . ظاہر ہے میں ہی غلط تھا . اور غلط فہمی یا خوش فہمی کا شکار تھا کہ اچھا سوچنے , اچھے خواب دیکھنے اور دکھانے اور اپنے اندر کے آئینوں کو صاف کرنے اور چمکانے سے ہم اپنے اندر حقیقی معنوں میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں اور ایک بھرپور , پر مسرت اور کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں ، مگر اتنے برسوں کے اتنے ہشت پہلو تجربات کے بعد , اب جا کر یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ پانی کے بہاؤ کے مخالف سمت تمام عمر نہیں تیر پاتے ، یا تو ڈوب جاتے ہیں یا تھک کر کنارے آبیٹھتے ہیں اور یا بہاؤ کے ساتھ ساتھ بہنے لگتے ہیں .

ننانوے اعشاریہ نناوے فیصد لوگوں کے ساتھ ، اب وہ لکھنے والے نہیں رہے کیونکہ وہ پڑھنے والے نہیں ہیں . پہلے لکھنے والے اپنے اپنے زاویوں پر , پڑھنے والوں کو اپنے ساتھ لے کر چلا کرتے تھے . ہر قلم کار کا اپنا منفرد طرز تحریر اور اپنی مختلف سوچ ہوتی تھی , اپنی الگ شناخت ہوتی تھی , اپنی اپنی الگ ریڈر شپ ہوتی تھی . شاعر , ناول نگار , افسانہ نویس , کالم نگار , ڈرامہ نویس , مزاح نگار , صحافی , تجزیہ کار , اور ان گنت دیگر صاحب دل و عقل قلم کار ایسے ایسے خیال لفظوں میں ڈھالا کرتے تھے کہ ہر قاری ان کی تحاریر کے جادو میں تمام عمر گرفتار رہتا تھا اور ہر قاری ہر طرح کے لکھنے والوں کے ہر ہر فن پارے کو بار بار گھول کر پیا کرتا تھا مگر پھر بھی اس کی پیاس نہیں بجھتی تھی اور شہ پارے بھی کیسے کہ چالیس, پچاس, ساٹھ سال بعد آج بھی اردو ادب کی زینت ہیں اور آج کی تحریریں اور آج کے لکھنے والے آج کے زمانے کے بہاؤ پر بہہ رہے ہیں ، ڈسپوزیبل اور کمرشل .

ادب ہو یا صحافت ، ناول ہو یا افسانہ ، ڈرامہ ہو یا شاعری ؟ لکھی جانے والی ہر صنف میں آج کی نسل اور آج کے زمانے کی نفسیات اور جذبات کی عکاسی کی جا رہی ہے . وہ زمانہ تجدید , تحقیق اور تخلیق کا تھا اور آج ہر تحریر کا فوکس محض رینکنگ اور ریٹنگ ہے، گروپ میکنگ ہے ،مطمع نظر , روح کی تسکین اور ذہنی وقلبی نشونما اور خوبصورت معاشرے کی تعمیر نہیں ہے ، آج کے لکھاری کی منزل , مقبولیت نہیں بلکہ شہرت اور دولت ہے ،چاہے کچھ بھی لکھنا پڑے , چاہے کچھ بھی کرنا پڑے , اپنے آپ کو, اپنے قلم کو , اپنے ضمیر اور اپنے اندر کی آواز کو , اپنے منصب اور مقام کو , اپنے خاندان اور اپنے نسب و نام کو , اپنے ماضی اور حال کو , اپنے وطن اپنی شناخت کو , ہر شے کو بیچ باچ کے خود کو بڑے ناموں اور بڑی جگہوں سے جوڑ کر ہر طرح کا جھوٹ سچ لکھنا پڑے ،آج کا لوگو ہے ، ہر چیز بیچ دو یا استعمال کے بعد پھینک دو .

آج سب کو شارٹ کٹ کامیابی چاہیئے اور وہ بھی صرف وہ کامیابی جس کے ساتھ مال و دولت اور عہدے و اختیار شامل ہوں.مادی استعمال و آسائش کی سہولیات میسر ہوں اور یہ سب راتوں رات حاصل ہوں. کامیابی کے اس پیرامیٹر سے کم پر کوئی راضی نہیں . زیادہ ہو جائے , زیادہ مل جائے تو اس سے بڑی بات اور کیا ہو گی ؟ سچی بات تو یہ ہے کہ اس میں آج کے قلم کاروں کا بھی کوئی قصور نہیں، آج کے وقت کا چلن یہی ہے,ریت یہی ہے . موجودہ زمانے کے دستور یہی ہیں، پیسے کے بنا گزارہ بھی تو نہیں ، پوری دنیا لین دین اور اکنامکس کے ایسے نادیدہ گورکھ دھندے میں گرفتار ہے کہ جسے نہ کوئی دیکھ سکتا ہے نہ اس سے لڑ سکتا ہے اور نہ اسے توڑ سکتا ہے،عہد حاضر کی بنیادی ضرورت , معاشی مضبوطی قرار پایا ہے . فرد کے لئیے بھی , خاندان کے لئیے بھی اور مجموعی طور پر معاشرے اور ملک کی بقاء کے لیے بھی .

اس صورتحال میں پروفیشنل لکھنے والے کیا کریں؟ شوق اپنی جگہ , ذوق ایک طرف , ذریعہ معاش ہی جب لکھنا ٹھہرا تو وہی کچھ لکھا جائے گا , جس کی کھپت ہو , جس کی طلب ہو . اپنی پسند , اپنی مرضی , اپنے خوابوں و خیالوں کے مطابق لکھنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے . آج کے قارئین اپنی سوچ اپنی پسند کا مطالعہ چاہتے ہیں ،ہلکا پھلکا , سطحی , حالات حاضرہ کی عکاسی کرتا ہوا , جس کے پڑھنے سے ذہن پر ذرا بھی زور نہ پڑے , نہ دل پر ضرب پڑے , نہ ہی روح کے آئینے پر بال پڑے ،بس ” ٹائم اچھا پاس ہو ” .

آج کا قاری , اور دیگر چیزوں کی لالچ کی طرح محض معلومات اور تفریح برائے تفریح کے حصول کی سوچ کا حامل ہے،اسے کسی بھی طرح کے علم سے کوئی سروکار نہیں ،ماسوائے اس علم کے جو اس کی آمدنی میں براہ راست اور فوری اضافے کا موجب بن سکے اور یا پھر وہ کتابیں , وہ تحریریں , وہ مضامین اور وہ ڈرامے اور فلمیں جو دن بھر کے معاشی کھنچاؤ دباؤ اور تگ و دو کے بعد طبیعت کو ریفرش کر سکیں یا تھکن کو دور کر کے تن من کے اندر وہ مصنوعی اور لمحاتی طاقت بھر دیں جو سیاست دانوں اور کھلاڑیوں اور فنکاروں کے ساتھ ایسوسیٹ کر دیں . تنقید برائے تنقید , متشدد رویے , منفی جذبات و احساسات و خیالات , حادثات , زندگی کے تاریک اور المناک سانحات , ناقابل حصول آسائشات , ماورائی واقعات , لوگوں کی ذاتی زندگی کے حالات اور اسی طرح کی وہ ساری باتیں اور چیزیں جو مزاج میں ہیجان اور خلجان پیدا کرتی ہیں, آج کے انسان کی ڈیمانڈ ہیں .

بات کا بتنگڑ بنانا اور انسانی نفسیات کے حساس منفی گوشوں کو برانگیختہ کرنا اور اس کی بنادپر پیسہ کمانا , آج کا وطیرہ ہے تو پھر ظاہر ہے کہ لکھنے والے بھی پیسہ اور نام کمانے کے لئیے زندگی کے مثبت , معطر , مضبوط , اور خوشگوار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی بجائے انسانی نفسیات کے کمزور اور کمتر اور منفی اور تعفن زدہ کونوں کھدروں کے بت تراش رہے ہیں . یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ اس طرح اپنے قلم سے معاشرے کے اندھیروں میں اور اضافہ کر رہے ہیں،لوگوں کوکچھ نیا اور بہتر سوچنے اور کرنے کا دینے کی بجائے ان کے سفر کو اور دشوار بنا رہے ہیں.زمانے کے جب یہ دستور ہیں . نہ ان کا سایہ سروں پر باقی ہے جن کے لکھے نے سوچنا , جینا , لکھنا اور دینا سکھایا , اور نہ ایسے پڑھنے والے موجود ہیں جو کچھ سیکھ کر اپنے اندر اور باہر پوزیٹو تبدیلی کے چراغ جلا سکیں تو اب کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی . تنقید اور تخریب کی طرف طبیعت کا رحجان نہیں بن پاتا ،کمرشل اور عام اور عمومی لوگوں کی پسند کے مطابق لکھنے کو جی نہیں کرتا ،دل کے پھپھولے پھوڑنے کی عمر نہیں رہی.جو لکھا اور جو لکھنے کو من چاہتا ہے , اسے پڑھنے والے اور پڑھ کر کچھ کرنے والوں کا دور دور تک کہیں نام و نشان نہیں تو ایسے میں کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی .

اب آپ ہی بتائیں , کونسی راہ اپنائی جائے؟ اب تک کے پڑھنے لکھنے کا حاصل سوائے اپنے اندر کی کتھارسس اور صفائی ستھرائی کے کچھ نہیں.کئی بار کنارے بیٹھ کر بھی دیکھ لیا. ہر دو چار سال بعد پھر دورہ اٹھا اور لکھنا شروع کر دیا مگر جب بھی لکھا , زمانے کے بہاؤ کے خلاف ہی بہنے کی کوشش کی اور ہر بار ہی منہہ کی کھائی اور نقصان اٹھائے . وقت , توانائی , پیسہ , ایسے عشق لاحاصل میں خرچ ہوئے جس سے شاید ہی کسی کی زندگی میں کچھ متحرک اور موثر تبدیلی آئی ہو . آج کے قارئین کو کسی نئے خیال یا خواب کی ضرورت نہیں.پڑھنے کی بجائے لوگ سننا زیادہ پسند کرتے ہیں , دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں.مطالعے کا وقت اور ہمت کسی کے پاس نہیں. پھر کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی ؟ بہتر تو یہی ہے کہ یا زمانے کا لباس پہن لیا جائے یا چپ ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی جائے . اس لمحے نہیں پتہ کہ قدرت کس راستے کا خیال دل میں ڈالتی ہےمگر حجت تمام کرنے کے لئیے مشورہ لینا بھی ضروری ہے . آپ ہی بتائیں جب حاضر وقت دل اور جذبے کی جگہ فائدے اور نقصان نے لے لی ہے تو مجھ جیسے بزعم خود بقراط کیا لکھیں اور کیوں لکھیں اور کس کے لئیے لکھیں؟؟

(ڈاکٹر صابر حسین خان شہر قائد میں رہائش پذیر اور ملک کے مشہور ماہر نفسیات ہیں ،علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے اور مختلف قومی و عوامی مسائل پراخبارات میں ان کے کالمز شائع ہوتے رہتے ہیں۔ فیڈ بیک اور دیگر مسائل کے کے لئے وٹس ایپ نمبر 03456680988 پر ڈاکٹر صابر حسین خان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ )

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

About The Author

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *